ننگرپارکر میں کنویں کا مبینہ زہریلا پانی، درجنوں افراد متاثر، احتجاج شدت اختیار کر گیا

تھرپارکر(رپورٹ : میندھرو کاجھروی/ جانو ڈاٹ پی کے) تعلقہ ننگرپارکر کے گاؤں آنٹری میں کنویں کا مبینہ زہریلا پانی پینے سے انسانی زندگیاں خطرے میں پڑ گئی ہیں، جہاں متعدد افراد بے ہوش ہونے کے بعد اسلام کوٹ اور مٹھی کی سول اسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔ دیہاتیوں کے مطابق اب تک جو بھی کنویں کا پانی پیتا ہے وہ بے ہوش ہو جاتا ہے، مگر انتظامیہ اور محکمہ صحت کی جانب سے تاحال کوئی مؤثر قدم نہیں اٹھایا گیا۔
واقعے کے خلاف گاؤں کے مردوں، عورتوں اور بچوں نے احتجاجی دھرنا دیتے ہوئے شدید نعرے بازی کی اور مطالبہ کیا کہ کنویں کے پانی کی فوری سائنسی جانچ کرائی جائے، متاثرین کو صاف پینے کا پانی اور طبی سہولیات فراہم کی جائیں، جبکہ اگر کسی نے جان بوجھ کر پانی کو زہریلا کیا ہے تو ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
دیہاتیوں کا کہنا تھا کہ واقعے کے بعد نہ تو کوئی انتظامی افسر گاؤں پہنچا ہے اور نہ ہی محکمہ صحت کی کوئی ٹیم پانی کے نمونے لینے یا صورتحال کا جائزہ لینے آئی ہے، جس کے باعث گاؤں میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔
دوسری جانب جی ڈی اے رہنما اور ارباب گروپ کی اہم شخصیت ارباب انور عبدالجبار نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ گاؤں آنٹری کے رہائشی شدید اذیت میں مبتلا ہیں اور زہریلا پانی ہونے کے باوجود صاف پانی سے محروم ہیں، جس کے باعث لوگ مجبوری میں وہی پانی پینے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چند روز قبل 30 سے زائد افراد بے ہوش ہوئے، لیکن انتظامیہ نے معاملے کا کوئی سنجیدہ نوٹس نہیں لیا۔
ارباب انور نے ضلعی انتظامیہ اور محکمہ صحت سے فوری امدادی اقدامات، پانی کی سائنسی بنیادوں پر جانچ اور متاثرین کو فوری ریلیف فراہم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر دو دن اندر متاثرہ دیہاتیوں کی داد رسی نہ کی گئی تو متاثرین کے ساتھ مل کر تاریخی احتجاج کیا جائے گا۔



