ایران کارروائی پر امریکہ کے اندر سوالات شدت اختیار کر گئے

واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکہ میں ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کے نتائج پر سوالات بڑھنے لگے ہیں، جبکہ سیاسی اور عسکری حلقوں میں اس بات پر بحث جاری ہے کہ واشنگٹن نے عملی طور پر کیا حاصل کیا۔

الجزیرہ کی واشنگٹن سے رپورٹ کے مطابق امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی غیر متوقع وائٹ ہاؤس آمد نے بھی سیاسی حلقوں میں نئی چہ مگوئیوں کو جنم دیا ہے۔ دوسری جانب امریکی کانگریس میں ریپبلکن پارٹی کے بعض سخت گیر اراکین حکومت پر تنقید کر رہے ہیں اور سوال اٹھا رہے ہیں کہ ایران کے ساتھ براہ راست کشیدگی سے امریکہ کو کیا کامیابی ملی۔

نیویارک ٹائمز کے مطابق امریکی انٹیلی جنس اداروں کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کے حوالے سے ایران اب بھی اپنی 33 میں سے 30 میزائل تنصیبات برقرار رکھے ہوئے ہے، جبکہ ایران کے 70 فیصد موبائل میزائل لانچرز اور میزائل ذخائر بھی محفوظ ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ صورتحال اس تاثر کو تقویت دے رہی ہے کہ امریکی اور اسرائیلی کارروائیوں کے باوجود ایران کی عسکری صلاحیت مکمل طور پر متاثر نہیں ہوئی۔

مزید خبریں

Back to top button