امریکاکی اجارہ داری ختم!روس اور چین کا عالمی نظام ری سیٹ کرنے کا اعلان،خفیہ گیس معاہدے کی اندرونی کہانی آ گئی!

بیجنگ/ماسکو(خصوصی رپورٹ:جانو ڈاٹ پی کے)عالمی جیوپولیٹکس اور سپر پاورز کی شطرنج پر ایک ایسا ہولناک زلزلہ آیا ہے جس نے مغربی دنیا کے ایوانوں میں کھلبلی مچا دی ہے۔
باوثوق بین الاقوامی اسٹریٹجک ذرائع کے مطابق روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے حالیہ دورہ چین نے واشنگٹن کی نیندیں اڑا دی ہیں،جہاں صدر شی جن پنگ اور صدر پیوٹن نے ملکر واشنگٹن کی اجارہ داری کے خلاف "عالمی سسٹم ری سیٹ پلان” کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔ دونوں رہنماؤں نے واضح کیا ہے کہ دنیا اب یونی پولر (ایک قطبی) نہیں رہی بلکہ اب کثیر القطبی (ملٹی پولر) عالمی نظام نافذ ہو چکا ہے جس میں اب اکیلے ڈونلڈ ٹرمپ یا امریکی بلاک کی بدمعاشی اور جنگل کا قانون نہیں چلے گا۔ برکس (BRICS) اور شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے ذریعے عالمی تجارت سے امریکی ڈالر کا جنازہ نکالنے اور عالمی بینکنگ سسٹم کو واشنگٹن کے چنگل سے آزاد کرانے کا حتمی پلان تیار کر لیا گیا ہے۔
لیکن اس تاریخی دورے کے دوران ایک ایسا حیران کن موڑ اور معاشی بم شیل بھی سامنے آیا ہے جس نے عالمی ماہرین کو دنگ کر دیا ہے۔ انتہائی خفیہ رہنے والی نیگوسییشنز کے بعد یہ سنسنی خیز انکشاف ہوا ہے کہ اسٹریٹجک دوستی کے دعووں کے باوجود روس اور چین کے مابین سائبیریا سے گیس سپلائی کی تاریخی پائپ لائن کا سب سے بڑا معاہدہ بری طرح ناکام ہو گیا ہے۔ یوکرین جنگ میں تین لاکھ سے زائد فوجی گنوانے کے بعد شدید معاشی دباؤ کا شکار روس، یورپ کا متبادل ڈھونڈنے کے لیے چین کو سستے نرخوں پر گیس بیچنے پر مجبور تھا، مگر بیجنگ نے رشتوں پر اپنے قومی مفادات کو ترجیح دیتے ہوئے قیمتوں اور شرائط پر جھکنے سے صاف انکار کر دیا، جسے پوتن کے لیے ایک بہت بڑا معاشی دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔
چینی سفارتکاری کی اسمارٹنس کا عالم یہ ہے کہ ایک طرف پیوٹن بیجنگ میں موجود تھے تو دوسری طرف چین نے امریکہ سے 200بوئنگ طیارے خریدنے کا اعلان کر کے واشنگٹن کو بھی بارگیننگ چپس پر لگا دیا ہے۔روس اب عالمی نظام میں پہلی پوزیشن سے ہٹ کرچین کےپیچھے ‘سیکنڈ ان کمانڈ’ بننے پر مجبور ہو چکا ہے۔چین امریکاکو تائیوان اور ایران کے محاذ پر الجھا کر خود دنیا کی واحد معاشی سلطنت بننے کی راہ پر گامزن ہے۔
روس اور چین کے اس جوڑ، ڈالر کی گرتی ہوئی ساکھ اور گیس پائپ لائن کی ناکامی کی مکمل اندرونی کہانی جاننے کے لیے توصیف احمد خان کا یہ تفصیلی تجزیاتی وی لاگ مکمل دیکھیں۔




