کراچی وفاق کے حوالے؟زرداری شدید دباؤ میں اور28ویں آئینی ترمیم کا ہولناک بم شیل!

لاہور(خصوصی رپورٹ:جانو ڈاٹ پی کے)پاکستان کے سیاسی نظام اور وفاقی ڈھانچے میں ایک ایسا ہولناک زلزلہ آنے والا ہے جس نے پیپلز پارٹی اور مقتدرہ (اسٹیبلشمنٹ) کے درمیان پوشیدہ کشیدگی کو چوراہے پر لا کھڑا کیا ہے۔
باوثوق ذرائع اور نامور صحافیوں کی رپورٹس کے مطابق، آئندہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ کی پیشی سے قبل28ویں آئینی ترمیم کا مسودہ لانے کے لیے دباؤ شدید ترین ہو چکا ہے۔وفاق کا مالیہ بڑھانے کیلئے این ایف سی ایوارڈ اور18ویں آئینی ترمیم میں رد و بدل کی کوششوں پر آصف علی زرداری اور اسٹیبلشمنٹ کے مابین شدید تناؤ پایا جاتا ہے۔ بجٹ سے پہلے صوبوں کا شیئر کم کر کے وفاق کو فنڈز منتقل کرنے کی ڈیڈ لائن8یا9جون مقرر کی گئی ہے۔ دوسری جانب زرداری حکومت نے اس دباؤ کا مقابلہ کرنے کے لیے این ایف سی کو چھیڑے بغیر صوبوں کے ذریعے وفاقی ٹیکس وصولی اور حالیہ پاک-بھارت مختصر جنگ کے بعد پیدا ہونے والے اضافی دفاعی اخراجات میں صوبائی شراکت داری کی نئی تجویز پیش کر دی ہے۔
اس دوران سب سے بڑا بم شیل کراچی کے حوالے سے سامنے آیا ہے۔ نامور سینئر صحافیوں کے مطابق، اندرونی کوریڈورز میں اس تجویز پر انتہائی سنجیدگی سے غور شروع ہو گیا ہے کہ صوبائی دارالحکومت کراچی کا انتظامی و مالیاتی کنٹرول سندھ حکومت سے لے کر براہِ راست وفاق (Federal Control) کے سپرد کر دیا جائے۔ ایم کیو ایم کی پرانی مانگ اور قائد اعظم کے تاریخی فیصلے کی آڑ میں کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے کی اس سنسنی خیز تیاری نے پی پی پی کی سیاست پر موت کا وار کر دیا ہے۔ اگر کراچی کا کنٹرول چھینا گیا تو سندھ کے قوم پرستوں اور پیپلز پارٹی کی طرف سے شدید ترین مزاحمت اور انتہائی سخت ترین فیصلے کا امکان ہے، کیونکہ کراچی کو گنوانا زرداری برادری کے لیے سیاسی طور پر ناقابلِ تلافی نقصان ہو گا۔ مزید برآں، 28 ویں ترمیم کے پیچھے سال 2027 سے پہلے ایک ایسی بڑی آئینی و اسٹریٹجک تبدیلی کا خفیہ پلان چھپا ہے جس کا ذکر ابھی کھل کر نہیں کیا جا رہا۔ اس پورے سیاسی کھیل کی گہرائی اور پسِ پردہ محرکات جاننے کے لیے شکیل ملک کا یہ وی لاگ لازمی دیکھیں۔




