ڈریگن کے دربار میں امریکاکی سفارتی خودکشی،ٹرمپ کے پلٹتے ہی پیوٹن،شہباز شریف اور عاصم منیر کے طوفانی دورے تیار!

تحریر:نہال معظم
ٹرمپ بیجنگ کیا پہنچے دنیا کو لگا کہ شاید واشنگٹن نے ڈریگن کو رام کر لیا ہے اور عالمی معیشت کی بساط پر امریکی بالادستی کا سکہ اب دوبارہ جمنے والا ہے۔ مگر واپسی تک کھیل کچھ ایسا پلٹا کہ جسے واشنگٹن اپنی تزویراتی فتح سمجھ رہا تھا، وہی بیجنگ کے دربار میں ایک نئی سفارتی پیچیدگی کی کہانی بن کر ابھرا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا چین کا حالیہ دورہ، جسے وائٹ ہاؤس اپنی طاقت کا سب سے بڑا معرکہ قرار دے رہا تھا، اب ایک ایسی تزویراتی دلدل کی شکل اختیار کر چکا ہے جس کی چنگاریاں بیجنگ کے ایک فائیو اسٹار ہوٹل کے کچرے دان سے برآمد ہونے والی خبروں سے سلگ رہی ہیں۔ ٹرمپ اپنے ہمراہ ایپل اور نویدیا جیسی ٹیکنالوجی کی دیوقامت کمپنیوں کا لشکر لے کر بیجنگ پر معاشی دھاک بٹھانے اترے تھے۔ وہ تائیوان سے لے کر آبنائے ہرمز تک چین کو اپنی شرائط پر جھکانا چاہتے تھے، لیکن چینی صدر شی جن پنگ نے ریشمی دستانوں میں چھپے لوہے کے ہاتھوں سے وہ سرد سفارتی استقبال کیا کہ امریکی وفد کی تمام تزویراتی امیدوں پر پانی پھر گیا۔
ابھی دنیا اس سرد جنگ کے نئے رخ کا اندازہ ہی لگا رہی تھی کہ اچانک بیجنگ کے سفارتی حلقوں سے ایک ایسی سنسنی خیز خبر آئی جس نے بین الاقوامی تعلقات میں ہلچل مچا دی۔ امریکی وفد کی روانگی کے بعد ہوٹل کے کچرے دان سے وہ نفیس چینی مٹی کے چائے کے سیٹ اور ریشمی اسکارف برآمد ہوئے جو چینی صدر نے روایتی احترام کے طور پر ٹرمپ کو تحفے میں دیے تھے۔ چینی ثقافت میں تحائف کی اس مبینہ بے حرمتی نے پورے چین میں غصے کا ایک طوفان کھڑا کر دیا۔ چینی سوشل میڈیا "ویبو” پر راتوں رات کروڑوں صارفین نے اسے امریکی تکبر کا بدترین مظاہرہ قرار دے کر بائیکاٹ کی مہم شروع کر دی، جس نے امریکی کمپنیوں کے اربوں ڈالر کے تجارتی خوابوں کو بڑا دھچکا پہنچایا ہے۔
سفارتی محاذ پر لگی اس آگ پر پٹرول چھڑکنے کے لیے کریملن کے قصرِ صدارت سے ایک ایسا دھماکہ خیز اعلان ہوا ہے جس نے واشنگٹن کے ہوش اڑا دیے ہیں۔ امریکی صدر کے بیجنگ سے نکلتے ہی، روس نے اعلان کیا ہے کہ ٹھیک 19 مئی کو روسی صدر ولادیمیر پیوٹن چین کے ہنگامی اور سرکاری دورے پر بیجنگ اتر رہے ہیں۔ عالمی سیاست کے پنڈت اسے پیوٹن کا وہ مہلک ‘ماسٹر اسٹروک’ قرار دے رہے ہیں جو ٹرمپ کی بساط الٹنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ جب ٹرمپ کے چھوڑے ہوئے تحائف کی تلخی چینیوں کے دلوں میں ابل رہی ہے، ٹھیک اسی وقت پیوٹن کا بیجنگ میں سرخ قالین پر استقبال واشنگٹن کے لیے ایک بڑا تزویراتی پیغام ہوگا۔ روس اور چین کا یہ ملاپ، جو اپنے باہمی تزویراتی معاہدے کے 25 سال مکمل ہونے پر نئے عہد میں داخل ہو رہا ہے، دنیا کو یہ بتا رہا ہے کہ اگر امریکہ ایک تاجر کی طرح سودے بازی کرتا ہے، تو ماسکو اور بیجنگ کی شراکت داری فولادی ہے۔
ابھی واشنگٹن اس روسی وار کا توڑ ڈھونڈنے کی کوشش ہی کر رہا ہے کہ بیجنگ کے شاہی دربار سے ایک اور تزویراتی گونج سنائی دی ہے۔ روسی صدر کے فوراً بعد، 23 مئی کو پاکستانی وزیرِ اعظم شہباز شریف اور آرمی چیف جنرل عاصم منیر بھی ایک انتہائی اہم اور ہنگامی دورے پر بیجنگ پہنچ رہے ہیں۔ یہ دورہ ایک ایسے تاریخی اور نازک وقت میں ہو رہا ہے جب پاک چین سدا بہار سفارتی تعلقات کی 75ویں سالگرہ کی تقریبات عروج پر ہیں۔ خطے کی موجودہ کشیدہ صورتحال میں، روس کے فوراً بعد پاکستان کے اس اعلیٰ ترین سول و عسکری وفد کی بیجنگ آمد محض ایک روایتی پھیرا نہیں، بلکہ پاک چین دوستی کے 75 سالہ فولادی سفر کے سائے میں خطے کے نئے جغرافیائی بلاک کی تجدید کا سب سے بڑا اعلان ہے۔ واشنگٹن کے لیے یہ منظرنامہ کسی ڈراؤنے خواب سے کم نہیں کہ اس کے بیجنگ سے نکلتے ہی ماسکو اور اسلام آباد کے مہرے بیجنگ کے ساتھ مل کر ایک نیا حصار بناتے دکھائی دے رہے ہیں۔
عالمی شطرنج کی بساط پر یہ ہلچل صرف بیجنگ تک محدود نہیں، بلکہ نئی دہلی کی بے چینی بھی اب کھل کر سامنے آ رہی ہے۔ ایک طرف جہاں بیجنگ میں روس اور پاکستان کا یہ تزویراتی جوڑ بیٹھ رہا ہے، تو دوسری طرف اسی کاؤنٹر ویٹ کے طور پر بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی کا حالیہ یو اے ای (متحدہ عرب امارات) کا دورہ بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ مودی کی خلیج میں یہ باگ ڈورصاف ظاہر کرتی ہے کہ بھارت خطے میں بننے والے اس نئے اور ناقابلِ شکست بیجنگ-ماسکو-اسلام آباد گٹھ جوڑ سے کس قدر سہم چکا ہے اور خلیجی ممالک میں اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے ہنگامی پناہ گاہیں تلاش کر رہا ہے۔ لیکن تزویراتی حقیقت یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اور آبنائے ہرمز میں ایران اور امریکہ کے درمیان بارود کسی بھی وقت پھٹ سکتا ہے، اور ایسے میں ٹرمپ کی بیجنگ کو رام کرنے اور مودی کی خلیج کو اپنے ساتھ ملانے کی تمام کوششیں ریت کی دیوار ثابت ہو رہی ہیں۔
روس، چین اور پاکستان کا یہ ابھرتا ہوا تزویراتی توازن اب دنیا کو یہ باور کرا رہا ہے کہ عالمی سیاست کا مرکز اب صرف واشنگٹن کا وائٹ ہاؤس نہیں، بلکہ بیجنگ کا گریٹ ہال بھی ہے جہاں سپر پاورز کو اپنی حکمتِ عملی بدلنے پر مجبور ہونا پڑتا ہے۔ ٹرمپ نے جس کھیل سے اپنی تزویراتی جیت کا تاثر دینا چاہا تھا، وہ اب ایک ایسی سفارتی کھینچا تانی میں بدل چکا ہے جہاں بیجنگ کی بساط پر ماسکو، اسلام آباد اور بیجنگ کے مہرے مل کر خطے کا نیا اور ناقابلِ شکست دفاعی و معاشی نقشہ ترتیب دینے جا رہے ہیں۔



