ٹھٹھہ میں ہیوی ڈمپرز کا راج، مکلی کی سڑکیں شہریوں کیلئے خطرہ بن گئیں

ٹھٹھہ ( جاوید لطیف میمن\ جانوڈاٹ پی کے )ضلع ٹھٹھہ کا ھیڈ کوارٹر مکلی دن دھاڑے ھیوی لوڈڈ ڈمپرز مالکان کے ھاتھوں یرغمال یاد رہے کچھ عرصہ قبل ٹھٹھہ کے ایک مقامی وکیل کی جانب سے مقامی عدالت میں پٹیشن فائل کی گئی تھی کے ان ھیوہ لوڈد ڈمپرز کے دن کی اوقات میں مکلی شھر کے بیچ سے نکلنے والی سڑک مین نیشنل ھائی سے گذرنے پر پابندی لگائی جائے مقامی عدالت نے فیصلا دیتے ہوئے ان ھیوی لوڈڈ ڈمپرز کی دن کے اوقات میں گذرنے پر پابندی لگا دی تھی مقامی عدالت کے حکم کے باوجود اور ٹریفک پولیس کی رشوت خوری کے سبب مکلی شہر سے گذرنے والے مین نیشنل ہائی وے پر ان 22 وھلیرز ہیوی لوڈڈ ڈمپروں کے گزرنے کا سلسلہ پھر بھی جاری ہے

جبکہ ٹھٹھہ پولیس کی جانب سے مقامی عدالت کے احکامات ردی کی ٹوکری میں ڈال دئے گئے ہیں۔

یہ فوٹیجز اس وقت کی ہیں جب سول اسپتال مکلی میں او پی ڈی کے سامنے سینکڑوں ھزاروں کی تعداد میں مریضوں کا رش ہوتا ہے، جبکہ اسپتال کے سامنے بوائز ڈگری کالج، سندھ یونیورسٹی کیمپس اور گرلز و بوائز پرائمری اور ہائی اسکولز کے ساتھ ساتھ سینکڑوں سرکاری اور غیر سرکاری اداروں کے دفاتر ہونے کی وجہ سے مذکوری روڈ پر موٹر سائیکل سواروں سمیت ہزاروں کی تعداد میں عوام رکشا سمیت مختلف چھوٹی گاڑیوں میں سفر کرتے ہیں، اسپتال میں آنے والے مریضوں، اسکولز، کالج اور یونیورسٹی کیمپس کے طلبہ و طالبات کی آمدورفت کا سلسلہ سارا دن جاری رہتا ہے عوام سمیت جن کی زندگیاں ان ہیوی لوڈڈ ڈمپروں کی وجہ سے ہر وقت اور ہر لمحہ داؤ پر لگی ہوئی ہوتی ہیں۔

جبکہ نہ ڈی سی کو کوئی فرق پڑتا ہے، نہ ایس پی کو کوئی فرق پڑتا ہے اور حکمران طبقے کو تو ویسے بھی فرق نہیں پڑتا کیونکہ یہ ڈمپر یا تو حکمران جماعت یا حکومتی رہنماؤں کے ہیں یا پھر ہائی لیول کا اثر و رسوخ رکھنے والے ٹھیکیداروں کے ہیں یاد رہے کے ان ھیوی لوڈڈ ڈمپرز اور ٹریفک ایکسیڈنٹس کی وجھہ سے اب تک کئی لوگ اپنی جانیں گنواچکے ہیں مگر نہ ٹھٹھہ پولیس کو اور نہ ہی پولیس افسران کو اس بات سے کوئی فرق پڑتا ہے کیونکہ ملک میں ملکی قانون کا نھیں جنگل کے قانون کا راج قائم ہے۔

مزید خبریں

Back to top button