کراچی پریس کلب کے باہر سے عورت مارچ کی رہنما شیما کرمانی سمیت 8 سماجی کارکن گرفتار

کراچی(جانوڈاٹ پی کے)کراچی کے ضلع جنوبی کی پولیس نے عورت مارچ اور  خواجہ سرا کمیونٹی کی رہنماسمیت 8 خواتین  کو کراچی پریس کلب کے باہر سے حراست میں لے لیا۔

تفصیلات کے مطابق عورت مارچ اور خواجہ سرا کمیونٹی کی رہنما کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس کیلیے پہنچی تو پولیس نے انہیں میڈیا سے گفتگو سے قبل حراست میں لے لیا۔

پولیس حکام نے بتایا کہ حراست میں لی گئی گئی خواتین میں عورت مارچ کی شیما کرمانی، منیزہ احمد، خواجہ سرا  کیونٹی کی رہنماء شہزادی رائے اور دیگر خواتین شامل ہیں۔

عورت مارچ کی رہنما ماؤں کے عالمی دن کے حوالے سے پریس کانفرنس کرنے منگل کو کراچی پریس کلب پر پہنچی تو پریس کلب کے باہر خواتین سمیت پولیس اہلکاروں کی بڑی تعداد موجود تھیں۔

خواتین پولیس اہلکاروں نے عورت مارچ کی منتظیمن کو حراست میں لے کر پولیس موبائل میں بیٹھایا اور قریبی تھانہ منتقل کیا ۔اس دوران عورت مارچ کی شیما کرمانی نے اپنی گاڑی کلب کے گیٹ پر روک دی اور ان گرفتاریوں کے خلاف احتجاج کیا اور شدید مذمت کی ۔

خواتین پولیس اہلکاروں نے شیما کرمانی کو گاڑی سے نکال کر حراست میں لے لیا اور موبائل کے زریعے تھانہ منتقل کیا، ان گرفتاریوں کے سبب پریس کلب کے گیٹ پر رش لگ گیا۔

عورت مارچ کی کچھ خواتین اندر چلی گئیں۔ ساوتھ پولیس حکام کا کہنا یے کہ نقص امن کے خدشہ کے سبب ان خواتین کو حراست میں لیا گیا۔

بعدازاں سندھ حکومت کے اعلی حکام کی مداخلت پر تمام حراست میں لی گئی خواتین کو رہا کردیا گیا جس کے بعد وہ دوبارہ پریس کلب پہنچ گئیں۔

مزید خبریں

Back to top button