بجلی چوری میں ملوث افراد سے کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی، وزیراعظم

اسلام آباد(جانوڈاٹ پی کے)وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت پاور سیکٹر اصلاحات سے متعلق اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں بجلی کے شعبے میں جاری بہتری اور آئندہ حکمت عملی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ بجلی کی ترسیلی کمپنیوں میں چوری، عدم ادائیگی اور دیگر نقصانات میں نمایاں کمی آئی ہے۔ جون 2024 میں ترسیلی نقصانات کی شرح 18.3 فیصد تھی جو مارچ 2026 تک کم ہو کر 15.3 فیصد رہ گئی ہے۔ اسی طرح بجلی کے بلوں کی وصولی بھی بہتر ہوئی ہے جو 90 فیصد سے بڑھ کر 96.46 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔
بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ تین بجلی تقسیم کار کمپنیوں میں نجی شعبے کی شمولیت کے لیے اقدامات جاری ہیں اور نومبر تک بولی کا عمل مکمل ہونے کی توقع ہے، جبکہ نقصان میں چلنے والے 2500 فیڈرز پر سمارٹ میٹرز بھی نصب کیے جا چکے ہیں۔
وزیراعظم نے ہدایت کی کہ مستقبل کی توانائی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے قابل تجدید ذرائع جیسے پن بجلی، شمسی توانائی اور بائیو گیس پر توجہ دی جائے تاکہ پیداواری لاگت کم ہو اور معیشت کو فائدہ پہنچے۔ انہوں نے درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنے اور توانائی کے متبادل ذرائع کو فروغ دینے پر بھی زور دیا۔
اجلاس میں وزیراعظم نے واضح کیا کہ بجلی چوری میں ملوث افراد کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کی جائے گی اور کسی قسم کی رعایت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے ہدایت کی کہ جن کمپنیوں نے "اکنامک میرٹ آرڈر” کی خلاف ورزی کی ہے ان کے خلاف فوری محکمانہ کارروائی کی جائے۔
وزیراعظم نے بجلی چوری والے علاقوں میں ٹرانسفارمر سطح پر سمارٹ میٹرز لگانے کے عمل کو تیز کرنے اور ملک میں مسابقتی بجلی مارکیٹ کے قیام کے لیے اقدامات میں تیزی لانے کی بھی ہدایت کی۔ مزید برآں نجی شعبے کو ویلنگ نظام کے تحت ابتدائی طور پر 400 میگاواٹ بجلی کی فراہمی کے منصوبے پر کام تیز کرنے پر بھی زور دیا گیا۔
اجلاس میں وفاقی وزرا اور اعلیٰ حکام نے شرکت کی اور توانائی کے شعبے میں جاری اصلاحات پر اعتماد کا اظہار کیا گیا۔



