ضلع ٹھٹھہ کے پرائیوٹ سکولز میں سندھی زبان میں تعلیم نہ دینا سندھی قوم کی نسل کشی کے برابر ہے، ایڈووکیٹ منور بھٹو

ٹھٹھہ ( جاوید لطیف میمن\جانوڈاٹ پی کے)ٹھٹھہ سے تعلق رکھنے متحرک سیاسی و سماجی رھنما ایڈووکیٹ منور بھٹو نے اپنے ایک وڈیو بیان میں کہا یے ضلع ٹھٹھہ میں پرائیوٹ اسکولز میں سندھی زبان کا قتل عام جاری ہے ضلع ٹھٹھہ میں چلنے والے پرائیوٹ اسکولز چاہے وہ مالکان چلا رہے ہوں یا غیر سرکاری تنظمیوں کے ماتحت چل رہے ہوں ان پرائیوٹ اسوکلز میں سندھی زبان کو مکمل طور پر نظر انداز کیا جا رہا ہے خاص طور وہ مالکان جو ملک بھر میں سکولز کے نام پر مختلف ناموں کے تحت اسکولز چلا رہے جو نام بڑے بڑے برانڈز کی حیثیت رکھتے ہیں سندھی سبجیکٹ کو مکمل طور پر آئوٹ کردیا گیا ہے جس کی شدید مذمت کی جاتی ہے ایڈووکیٹ منور بھٹو کا مزید کہنا تھا کے اس طرح کا عمل جس میں صرف سندھی سبجیکٹس نہ پڑھانا سندھی قوم کی نسل کشی کے مترادف ہے اس عمل سے سندھی قوم کو سندھی زبان سے دور کھنے کی سازشیں کی جا رہی ہے تاکہ آئندہ آنے والی نسلیں نہ سندھی پڑہ سکیں نہ بول سکیں جبکہ ٹھٹھہ میں کچھ پرائیوٹ اسکولز ایسے بھی جہاں سندھی فیملی اپنے بچوں کو سندھی سبجیکٹ نہ پڑھانے پر مذکورہ اسکولز کی انتظامیا کے سامنے شکایت کرے تو ان فیملیز کے بچوں کی ایڈمشن کو کینسل کرکے اب بچوں کو گھر بھیج دیا جاتا جو نہ صرف سندہ دشمنی ہے پر تعصب پرستی مبنی ایک عمل بھی ہے ایڈوکیٹ منور بھٹو نے حکومت سندہ اور سندہ کے وزیر تعلیم سے مطالبہ کیا ہے کے ٹھٹھہ میں موجود سندھی سبجیکٹ نہ پڑہانے والے اسکولوں کے خلاف انکوائری کا انعقاد کرکے سندھی نہ پڑھانے والے اسکولوں کے لائسنس کینسل کئے جائیں بصورت دیگر ضلع ٹھٹھہ کے ایسے اسکولوں کے خلاف احتجاج کا رکھتے ہین جن میں جان بھوج کر سندھی سبجیکٹ نھیں پڑہائے جاتے



