اسلام آباد عالمی سفارتکاری کا مرکز بن گیا،پسِ پردہ لابنگ نے پاکستان کو ایران۔امریکہ مذاکرات میں کلیدی کردار دلوا دیا

اسلام آباد(خصوصی رپورٹ/جانوڈاٹ پی کے)پاکستان اس وقت عالمی سفارتی منظرنامے کے مرکز میں آ چکا ہے، جہاں ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی کے حل کے لیے اہم مذاکرات ہو رہے ہیں۔ یہ پیشرفت اچانک نہیں بلکہ برسوں کی خاموش سفارتی کوششوں اور واشنگٹن میں مؤثر لابنگ کا نتیجہ ہے۔
ذرائع کے مطابق ایک امریکی لابنگ فرم نے اس عمل میں کلیدی کردار ادا کیا،جس نے نہ صرف پاکستان کے مؤقف کو امریکی ایوانوں تک مؤثر انداز میں پہنچایا بلکہ2025میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کی امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات بھی ممکن بنائی۔اس ملاقات کو غیر معمولی قرار دیا گیا کیونکہ اس دوران پاکستان کے منتخب وزیر اعظم شہبازشریف بھی عہدے پر موجود تھے۔
پاکستان میں اس سفارتی پیشرفت کو قومی فخر کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔اپریل کے دوسرے ہفتے میں جب ایران۔امریکامذاکرات کا آغاز ہواتو سوشل میڈیا پر شہریوں نے "Blessed are the peacemakers” کا پیغام شیئر کیا، جسے امن کی کوششوں کی علامت کے طور پر لیا گیا۔
امریکی لابنگ فرم کے سربراہ اسٹیفن پین(Stephen Payne )نے پاکستانی قیادت کے ساتھ قریبی روابط استوار کیے اورسفارتی حکمت عملی کو مؤثر بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔
اطلاعات کے مطابق انہوں نے وزیر اعظم شہباز شریف کو ڈونلڈ ٹرمپ کو نوبل امن انعام کے لیے نامزد کرنے کا مشورہ بھی دیا تھا۔آج پاکستان ناصرف ایران اور امریکاکے درمیان مذاکرات میں سہولت کار کا کردار ادا کر رہا ہے بلکہ عالمی برادری کی توجہ بھی حاصل کر چکا ہے،خصوصاً اس وقت جب عالمی سپلائی چین کو لاحق خطرات پر تشویش بڑھ رہی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کا یہ کردار ایک بڑی سفارتی کامیابی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ماضی میں امریکہ اور پاکستان کے تعلقات میں بداعتمادی پائی جاتی رہی ہے۔ مختلف سرویز کے مطابق دونوں ممالک کے عوام ایک دوسرے کے بارے میں منفی رائے رکھتے رہے ہیں، جس کے باعث واشنگٹن میں پاکستان کی نمائندگی ایک مشکل کام تصور کی جاتی تھی۔
تاہم، پسِ پردہ سفارتی رابطوں اور مؤثر لابنگ نے پاکستان کو ایک بار پھر عالمی سطح پر اہم کھلاڑی بنا دیا ہے، اور اسلام آباد اب خطے میں امن کے لیے مرکزی کردار ادا کر رہا ہے۔
ترکیہ ٹوڈے سے گفتگو کرتے ہوئے اسٹیفن پین نے30دسمبر2001کی ایک ہنگامی فون کال کو واضح انداز میں یاد کیا، جب سابق صدر پرویز مشرف نے انہیں بتایا کہ اگر بھارت نے زمینی کارروائی کی تو وہ "بھارت کے خلاف جوہری ہتھیار استعمال کرنے کے لیے تیار ہیں”۔
اس وقت بھارت نے پارلیمنٹ حملے کے بعد،جس کا الزام اس نے فوری طور پر پاکستان پر عائد کیا تھا، تقریباً7لاکھ فوجیوں کو پاکستانی سرحد پر تعینات کر دیا تھا۔
پین کے مطابق،پرویز مشرف نے خاص طور پر مجھ سے کہا کہ میں یہ پیغام(سابق)امریکی صدرجارج ڈبلیو بش تک پہنچاؤں کہ اگر بھارت نے سرحد پار کی تو وہ سب سے پہلے جوہری ہتھیار استعمال کریں گے۔میں نے فوری طور پر بش کی نیشنل سکیورٹی کونسل کے ایک رکن سے رابطہ کیااور7گھنٹوں کے اندر بش نے مشرف کو فون کیا۔
بعد ازاں پین نے مشرف سے پوچھا کہ انہوں نے اتنے اہم پیغام کیلئے سرکاری سفارتی ذرائع کے بجائے انہیں کیوں منتخب کیا؟ اس پر مشرف کا جواب سادہ تھا،یہ ایک شارٹ کٹ تھا۔ان کے مطابق امریکی سفیر کو شامل کرنے سے طویل سفارتی کارروائی اور کاغذی عمل شروع ہو جاتا،جو اس پیغام کی سنگینی کو فوری طور پر نہیں پہنچا سکتا تھا۔
بلیک لسٹ سے بچاؤ
پاکستان میں سول اور عسکری حکومتیں بدلتی رہیں،لیکن ٹیکساس میں قائم اسٹریٹیجک کنسلٹنگ پر انحصار برقراررہا۔ 2020میں سابق وزیر اعظم عمران خان کے دور میں لنڈن گورنمنٹ سلوشنز کو ایک سنگین مالی و سفارتی بحران سے نمٹنے کے لیے شامل کیا گیا۔
اس وقت پاکستان کو فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (فیٹف)کی بلیک لسٹ میں شامل کیے جانے کا خطرہ تھا، جبکہ منی لانڈرنگ اور غیر قانونی فنڈنگ کے حوالے سے27خامیاں سامنے آئی تھیں۔
لنڈن نے ان خامیوں کو مرحلہ وار ختم کرنے میں مدد دی،جس کے نتیجے میں پاکستان نہ صرف بلیک لسٹ سے بچ گیا بلکہ مکمل طور پر گرے لسٹ سے بھی نکل آیا۔یہ ایک اہم معاشی کامیابی تھی جس نے ملک کو عالمی بینکاری پابندیوں سے بچا لیا۔
پین نے تسلیم کیا کہ باراک اوباماجوبائیڈن کے ادوار میں پاکستان کو کئی مشکلات کا سامنا رہا،جن میں عسکری تعاون میں کمی بھی شامل تھی۔
آپریشن سندور اور ٹرمپ-منیر ملاقات
2024میں پیشرفت نے تیزی پکڑی جب ٹیم ایگل کنسلٹنگ نے اسلام آباد پالیسی ریسرچ انسٹیٹیوٹ (IPRI) کے ساتھ معاہدہ کیا۔اس معاہدے کا مقصد آئی ایم ایف قرض کے حصول،فیٹف گرے لسٹ سے دور رہنے اور مؤثر سیاسی لابنگ کو یقینی بنانا تھا۔
یہ کوششیں2025میں ایک اہم پیشرفت پر منتج ہوئیں جب پاکستان کے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کیDonald Trumpسے ون آن ون ملاقات ہوئی،جسے خطے میں ایک بڑی سفارتی کامیابی قرار دیا گیا۔
ایران امن مذاکرات
پین کے مطابق، ان کی برسوں کی کوششوں نے پاکستان کو ایران۔امریکہ مذاکرات میں مرکزی حیثیت دلائی۔انقرہ میں قائم ایران ریسرچ سینٹر کے چیئرمین نے بھی کہا کہ ایران نے پاکستان کو مذاکرات کیلئے اس لیے منتخب کیا کیونکہ پاکستان چین اور امریکہ دونوں کے فیصلہ سازوں تک رسائی رکھتا ہے۔
اگرچہ لنڈن اسٹریٹیجیز ماضی میں لیبیا اور لٹویا جیسے ممالک کے لیے بھی سفارتی کردار ادا کر چکی ہےلیکن پاکستان کے ساتھ اس کا کام اب ایک بڑے امتحان سے گزر رہا ہے۔
جیسے جیسے یہ تاریخی مذاکرات آگے بڑھ رہے ہیں،ان کی کامیابی کا دارومدار نہ صرف علاقائی سفارتکاری بلکہ اسلام آباد اور واشنگٹن کے درمیان خفیہ رابطوں پر بھی ہوگا۔
فی الحال پاکستان نے عالمی سفارتی میز پر اپنی اہم جگہ بنا لی ہے،جو اس بات کی یاد دہانی ہے کہ کسی ملک کا عالمی اثر و رسوخ اکثر پسِ پردہ طاقتور عناصر کے ذریعے تشکیل دیا جاتا ہے۔



