تھرپارکر: تھرکول بلاک ٹو میں ہڑتال ختم، ایم بی سومرو کی بحالی نہ ہو سکی

تھرپارکر (میندھرو کاجھروی\جانوڈاٹ پی کے) تھرکول بلاک ٹو میں کام چھوڑ ہڑتال کرنے والے ملازمین نے دوبارہ مذاکرات کے بعد نئے دلاسوں پر ہڑتال ختم کر کے کام شروع کر دیا ہے۔
جبکہ دو سال قبل جبری طور پر برطرف کیے گئے ملازم ایم بی سومرو بحال نہ ہو سکے اور نہ ہی ان سے کوئی بات چیت کی گئی ہے۔
تھرکول بلاک ٹو کے ڈمپر ڈرائیوروں اور دیگر چھوٹے ملازمین نے اس لیے کام چھوڑ ہڑتال کی تھی کہ ان کے مسائل کے حل کے لیے کیے گئے وعدے پورے نہیں کیے گئے تھے۔
ہڑتالی ملازمین سے تھرکول بلاک ٹو کی انتظامیہ کی جانب سے فیاض سومرو اور ایڈووکیٹ قذافی سمیجو نے مذاکرات کر کے نئے دلاسے دے کر احتجاج ختم کروایا۔ سادہ ملازمین سیاست اور چالاکیوں سے ناواقف ہونے کی وجہ سے دوبارہ انتظامیہ کے جال میں آ کر کام شروع کر دیا۔ ذرائع کے مطابق انہیں کوئی نئی سہولت نہیں دی گئی، تاہم انتظامیہ اس فیصلے پر غور کر رہی ہے کہ ہڑتال کرنے والے ملازمین کی احتجاج کے دوران تین دن کی تنخواہ کاٹ لی جائے، لیکن ابھی تک حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔
دوسری جانب تھرکول بلاک ٹو کے اینگرو پاور جنریشن ڈیپارٹمنٹ میں کام کرنے والے ملازم ایم بی سومرو کو چھٹی پر گھر بھیجنے کے بعد انہیں برطرفی کا خط جاری کیا گیا تھا۔ اس جبری برطرفی کے خلاف وہ گزشتہ دو سال سے احتجاج کر رہے ہیں، لیکن ان سے بات چیت کے لیے کوئی انتظامی رکن تیار نہیں۔ تھرکول کمپنی میں ان کا داخلہ بھی بند کر دیا گیا ہے، جس کے بعد انہوں نے چند دن قبل خودسوزی کی دھمکی بھی دی تھی۔
محمد بخش (ایم بی) سومرو کا کہنا ہے کہ انہیں ملازمت سے جبری طور پر نکالا گیا ہے۔ انہیں گریجویٹی اور دیگر مراعات بھی نہیں دی گئیں، جبکہ ان کے پاس انشورنس کارڈ اور ملازمت کے دیگر کارڈ موجود ہیں۔ دنیا میں کہیں بھی اس طرح نکالنے کا قانون نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان سے بات چیت کی جائے، انہیں ملازمت سے نکالنے کی وجہ بتائی جائے، اگر وہ کسی بھی معاملے میں قصوروار ہیں تو انہیں سزا دی جائے، لیکن اس طرح بے سہارا کر کے ذلیل نہ کیا جائے۔
انہوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے ایک بار پھر کہا کہ وہ اور ان کے بچے فاقہ کشی پر مجبور ہیں، لہٰذا ان کے معاملے کا جائزہ لے کر ان کے ساتھ انصاف کیا جائے۔



