علی لاریجانی کی شہادت : "گھر کے بھیدی” پکڑا گیا

تہران( خصوصی رپورٹ)ایرانی دارالحکومت سے اس وقت کی سب سے سنسنی خیز خبر سامنے آئی ہے جہاں حساس اداروں نے سابق نیشنل سیکیورٹی سیکرٹری علی لاریجانی کی مخبری کرنے والے مرکزی ملزم کو رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا ہے۔ انتہائی معتبر ذرائع کے مطابق یہ گرفتاری ایران کے سیکیورٹی ڈھانچے میں موجود اس گہرے نیٹ ورک کا پردہ چاک کر رہی ہے جس نے علی لاریجانی کی ہر پل کی نقل و حرکت پر نظر رکھی ہوئی تھی۔ انکشاف ہوا ہے کہ جس روز اسرائیل نے علی لاریجانی کو ٹارگٹ کیا، وہ کسی سرکاری پروٹوکول کے بغیر انتہائی رازداری کے ساتھ تہران کے مضافات میں اپنی بیٹی سے ملنے جا رہے تھے اور ان کی اس خفیہ نقل و حرکت کا علم صرف چند مخصوص افراد کو ہی تھا۔
تحقیقات میں یہ چونکا دینے والی حقیقت سامنے آئی ہے کہ مخبر نے نہ صرف علی لاریجانی بلکہ ان کے صاحبزادے اور ایٹمی سائنسدان مرتضیٰ لاریجانی کی موجودگی کی بھی کنفرمیشن دی تھی، جس کے بعد اسرائیل کو عین اس وقت کارروائی کا موقع ملا جب وہ اپنے خاندان کے ساتھ موجود تھے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ یہ محض ایک گرفتاری نہیں بلکہ اسرائیل کے بدنام زمانہ خفیہ ادارے ‘موساد’ کے اس نیٹ ورک کی جڑیں کاٹنے کی شروعات ہے جو برسوں سے ایران کے اندر "پراکسی سٹیٹ” کی صورت میں کام کر رہا تھا۔ اس گرفتاری نے ایرانی قیادت میں کھلبلی مچا دی ہے اور اب تمام اعلیٰ حکام کی سیکیورٹی اور موومنٹ کو ازسرِ نو ترتیب دیا جا رہا ہے تاکہ مستقبل میں ایسے ہائی پروفائل نقصانات سے بچا جا سکے۔
اس سنسنی خیز گرفتاری کی اندرونی کہانی اور مخبر کے نیٹ ورک کی مزید تفصیلات جاننے کے لیے شکیل ملک کا مکمل وی لاگ اس لنک پر دیکھیں:




