سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی زندگی پر ایک نظر

تہران(مانیٹرنگ ڈیسک) ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای امریکی اور اسرائیلی مشترکہ حملے میں جاں بحق ہوگئے، ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق ہفتہ کی صبح ان کے رہائشی کمپاؤنڈ پر فضائی حملہ کیا گیا جس کے بعد ان کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی، وہ 86 برس کے تھے۔
شاہِ ایران کے دور میں وہ سیاسی سرگرمیوں کے باعث کئی بار گرفتار ہوئے، 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد وہ نئی اسلامی حکومت کے قیام میں نمایاں کردار ادا کرنے لگے۔
1981 میں ایک قاتلانہ حملے میں وہ شدید زخمی ہوئے اور ان کا دایاں بازو متاثر ہوا۔ اسی سال وہ ایران کے صدر منتخب ہوئے اور ایران عراق جنگ کے دوران ملک کی قیادت کی، 1989 میں آیت اللہ خمینی کے انتقال کے بعد مجلس خبرگان نے انہیں ایران کا سپریم لیڈر منتخب کیا۔
خامنہ ای مغرب خصوصاً امریکا کے حوالے سے سخت موقف رکھتے تھے تاہم 2015 میں انہوں نے ایران کے جوہری معاہدے کی منظوری دی جسے مشترکہ جامع منصوبہ عمل کہا جاتا ہے، بعد ازاں امریکہ کی جانب سے معاہدے سے علیحدگی کے بعد ایران اور مغرب کے تعلقات دوبارہ کشیدہ ہو گئے۔
ان کے دور میں 2009 کے گرین موومنٹ احتجاج، 2019 کے معاشی مظاہرے اور 2022 کے خواتین کے حقوق سے متعلق احتجاج جیسے بڑے چیلنجز بھی سامنے آئے، ان مظاہروں کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کیا گیا۔
اسرائیل اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی اور فضائی حملوں کے تبادلے کے بعد صورتحال انتہائی سنگین ہوگئی تھی، امریکی صدر نے اعلان کیا تھا کہ امریکا نے ایران میں ’بڑی فوجی کارروائی‘ شروع کردی ہے،اس تناظر میں خامنہ ای کی ہلاکت خطے کی سیاست میں ایک بڑے موڑ کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔
ان کی وفات کے بعد ایران میں 40 روزہ سوگ کا اعلان کیا گیا ہے، ملک ایک نئے سیاسی دور میں داخل ہو رہا ہے جس کے اثرات نہ صرف ایران بلکہ پورے مشرق وسطیٰ پر مرتب ہونے کا امکان ہے۔



