سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی زندگی پر ایک نظر

تہران(مانیٹرنگ ڈیسک) ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای امریکی اور اسرائیلی مشترکہ حملے میں جاں بحق ہوگئے، ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق ہفتہ کی صبح ان کے رہائشی کمپاؤنڈ پر فضائی حملہ کیا گیا جس کے بعد ان کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی، وہ 86 برس کے تھے۔

 آیت اللہ علی خامنہ ای 1939 میں ایران کے مقدس شہر مشہد میں پیدا ہوئے، وہ ایک مذہبی گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔ ابتدائی تعلیم کے بعد انہوں نے دینی مدارس میں فقہ اور اسلامیات کی تعلیم حاصل کی، وہ نجف اور قم کے علمی مراکز سے بھی وابستہ رہے اور آیت اللہ روح اللہ خمینی کے قریبی شاگردوں میں شمار ہوتے تھے۔

شاہِ ایران کے دور میں وہ سیاسی سرگرمیوں کے باعث کئی بار گرفتار ہوئے، 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد وہ نئی اسلامی حکومت کے قیام میں نمایاں کردار ادا کرنے لگے۔

1981 میں ایک قاتلانہ حملے میں وہ شدید زخمی ہوئے اور ان کا دایاں بازو متاثر ہوا۔ اسی سال وہ ایران کے صدر منتخب ہوئے اور ایران عراق جنگ کے دوران ملک کی قیادت کی، 1989 میں آیت اللہ خمینی کے انتقال کے بعد مجلس خبرگان نے انہیں ایران کا سپریم لیڈر منتخب کیا۔

سپریم لیڈر کے طور پر انہوں نے ایران کی دفاعی اور عسکری پالیسی کو مضبوط بنایا۔ اسلامی انقلابی گارڈ کور کو وسعت دی گئی اور اسے علاقائی اثر و رسوخ بڑھانے میں مرکزی حیثیت حاصل ہوئی  ان کے دور میں ایران نے ’مزاحمتی معیشت‘ کی پالیسی اپنائی تاکہ مغربی پابندیوں کے باوجود خود انحصاری کو فروغ دیا جا سکے۔

 خامنہ ای مغرب خصوصاً امریکا کے حوالے سے سخت موقف رکھتے تھے  تاہم 2015 میں انہوں نے ایران کے جوہری معاہدے کی منظوری دی جسے مشترکہ جامع منصوبہ عمل کہا جاتا ہے، بعد ازاں امریکہ کی جانب سے معاہدے سے علیحدگی کے بعد ایران اور مغرب کے تعلقات دوبارہ کشیدہ ہو گئے۔

 ان کے دور میں 2009 کے گرین موومنٹ احتجاج، 2019 کے معاشی مظاہرے اور 2022 کے خواتین کے حقوق سے متعلق احتجاج جیسے بڑے چیلنجز بھی سامنے آئے، ان مظاہروں کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کیا گیا۔

خامنہ ای نے خطے میں ایران کے اتحادیوں کے نیٹ ورک کو مضبوط کیا جسے ’محورِ مزاحمت‘ کہا جاتا ہے،اس میں لبنان کی حزب اللہ، فلسطین کی حماس، یمن کے حوثی اور عراق کے مسلح گروہ شامل رہے، ان کی اس حکمت عملی نے ایران کو خطے میں اہم طاقت کے طور پر ابھارا، تاہم حالیہ برسوں میں ان اتحادیوں کو شدید دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔

 اسرائیل اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی اور فضائی حملوں کے تبادلے کے بعد صورتحال انتہائی سنگین ہوگئی تھی، امریکی صدر نے اعلان کیا تھا کہ امریکا نے ایران میں ’بڑی فوجی کارروائی‘ شروع کردی ہے،اس تناظر میں خامنہ ای کی ہلاکت خطے کی سیاست میں ایک بڑے موڑ کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔

ان کی وفات کے بعد ایران میں 40 روزہ سوگ کا اعلان کیا گیا ہے، ملک ایک نئے سیاسی دور میں داخل ہو رہا ہے جس کے اثرات نہ صرف ایران بلکہ پورے مشرق وسطیٰ پر مرتب ہونے کا امکان ہے۔

مزید خبریں

Back to top button