ایم ایل ون منصوبے کی لاگت2ارب ڈالر اضافے کے بعد8ارب ڈالر تک پہنچ گئی،روہڑی تاکراچی سیکشن جون2027تک شروع کرنے کاہدف

سینیٹ اجلاس میں وقفہ سوالات کے دوران حنیف عباسی نے بتایا کہ ایم ایل ون منصوبے کا کنٹریکٹ تین سال کا ہوگا، جبکہ اسے دو سے ڈھائی سال میں مکمل کرنے کا ہدف ہے۔ منصوبے سے متاثر ہونے والی آبادی کو متبادل جگہ فراہم کی جائے گی۔
وفاقی وزیر نے ریلوے انجنوں کی صورتحال سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ مجموعی 439 انجنوں میں سے 267 فعال جبکہ 172 غیر فعال ہیں۔ پاکستان ریلوے کے 6 انجن صرف 6 ماہ چلنے کے بعد ناکارہ ہوگئے، جبکہ 40 انجنوں کی اوورہالنگ جاری ہے، جس پر 45 ارب روپے خرچ ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ فی الحال نئے انجن خریدنے کا کوئی پروگرام نہیں۔
حنیف عباسی کے مطابق ریلوے ورکشاپس کی پرانی مشینری کو فعال کرنے اور لیبارٹری کو مضبوط بنانے کے اقدامات بھی جاری ہیں۔
وفاقی وزیر نے بتایا کہ پاکستان ریلوے کی آمدن نے 78 سال میں پہلی مرتبہ 100 ارب روپے کا ہندسہ عبور کیا ہے، جبکہ آپریٹنگ اخراجات میں بھی کمی آئی ہے۔ اب 100 روپے کمانے کے لیے 84 روپے خرچ کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ پاکستان ریلوے نے 21 ارب 17 کروڑ روپے سے زائد مالیت کی 2 لاکھ 82 ہزار 609 ایکڑ اراضی واگزار کروائی ہے۔



