حماس غیر مسلح ہونے کو تیار نہیں، غزہ میں دوبارہ فوجی قوت منظم کرنے لگی،اسرائیلی اخبار کا دعویٰ

غزہ(جانوڈاٹ پی کے)اسرائیلی اخبار ہارٹز نے باخبر ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ سینیئر اسرائیلی فوجی حکام نے اپنے امریکی ہم منصبوں کو غزہ میں حماس کے حوالے سے انٹیلیجنس معلومات فراہم کی ہیں۔

انٹیلیجنس  معلومات کے مطابق حماس کا غیر مسلح ہونے کا کوئی ارادہ نہیں ہے اور وہ اسرائیل کے ساتھ ایک نئی مکمل جنگ کی صورت میں غزہ کی پٹی میں اپنی فورسز کو دوبارہ منظم کر رہی ہے۔

حالیہ دنوں میں واشنگٹن اور اسرائیلی سیاسی قیادت کو پیش کی گئی انٹیلی جنس معلومات کے مطابق حماس کا کسی بھی بین الاقوامی ادارے کے ساتھ تعاون کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے اور اس گروپ کو غیر مسلح کرنے کا واحد طریقہ فوجی طاقت کا استعمال ہے۔

ہارٹز کے مطابق اسرائیلی فوج کا اندازہ ہے کہ حماس نے اپنے سرنگوں کے نظام کو ٹھیک کر لیا ہے اور غزہ کے اندر ان علاقوں میں دوبارہ ہتھیار جمع کر لیے ہیں جو اب بھی اس کے کنٹرول میں ہیں۔

اسرائیلی فوج کا یہ بھی ماننا ہے کہ حماس کے پاس اس وقت تقریباً 30 ہزار سے 40 ہزار  جنگجو موجود ہیں جو کہ 7 اکتوبر 2023 کے حملے سے پہلے کی تعداد کے برابر ہیں۔

ہارٹز کا مزید کہنا ہے کہ اسرائیلی سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ حماس غزہ کی پٹی پر دوبارہ اپنا حکومتی کنٹرول قائم کرنے میں کامیاب ہو گئی ہے اور اس محصور پٹی میں اسے کسی چیلنج کا سامنا نہیں ہے۔

واضح رہے کہ غزہ سے اسرائیلی فوج کے انخلا اور حماس کے غیر مسلح ہونے کے لیے ایک جامع معاہدے تک پہنچنے کی کوششیں تعطل کا شکار ہیں۔

مزید خبریں

Back to top button