ایمرجنسی اور گورنر راج سے خیبرپختونخوا میں نفرت بڑھی، عمران خان کے ترجمان نیاز اللہ نیازی کا دعویٰ

راولپنڈی(جانوڈاٹ پی کے) بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان کے ترجمان نیاز اللہ نیازی نے دعویٰ کیا ہے کہ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے اقدامات سے عوام کی ناراضی میں اضافہ ہوا ہے، تاہم پی ٹی آئی اپنی سیاسی جدوجہد جاری رکھے گی اور پیچھے نہیں ہٹے گی۔
اڈیالہ روڈ راولپنڈی پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نیاز اللہ نیازی نے کہا کہ وہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے احکامات کے تحت عمران خان سے ملاقات کے لیے یہاں آتے ہیں، لیکن ان کے بقول حکومت عدالتی احکامات پر عمل درآمد میں رکاوٹیں ڈال رہی ہے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر کسی صوبے میں آئین کے مطابق معاملات نہ چل رہے ہوں تو گورنر راج لگانے کی بات کی جاسکتی ہے، لیکن پنجاب پراپرٹی پروٹیکشن ایکٹ اور کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) کے اقدامات بھی زیرِ بحث آنے چاہئیں۔ ان کا الزام تھا کہ پنجاب میں سی سی ڈی کی کارروائیوں کے دوران ماورائے عدالت قتل کیے جارہے ہیں، کیا یہ آئینی تقاضوں کے مطابق ہیں؟
نیاز اللہ نیازی نے دعویٰ کیا کہ وفاقی حکومت نے پہلے خیبرپختونخوا میں تحریک عدم اعتماد لانے کی منصوبہ بندی کی اور پھر سہیل آفریدی کو نااہل قرار دلوانے کے لیے شیر افضل کے ذریعے درخواست دائر کرائی۔ ان الزامات کی آزادانہ تصدیق فراہم کردہ خبر میں موجود نہیں۔
پی ٹی آئی ترجمان نے کہا کہ ایمرجنسی اور گورنر راج سے عوامی ناراضی کم ہونے کے بجائے بڑھی ہے اور وفاقی حکومت، بالخصوص مسلم لیگ ن، کے اقدامات نے خیبرپختونخوا کے لوگوں میں غصے کو مزید بڑھایا ہے۔
این ایف سی ایوارڈ کے حصے پر بھی سوال اٹھا دیا
نیاز اللہ نیازی نے این ایف سی ایوارڈ کے تحت خیبرپختونخوا کو ملنے والے حصے کا معاملہ بھی اٹھایا۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے کے لیے دو فیصد اضافی حصہ مختص کیا جانا تھا، جو ان کے بقول تاحال فراہم نہیں کیا گیا۔
انہوں نے گورنر راج کے معاملے پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے گورنر پنجاب نے اس معاملے کی ذمہ داری وفاق پر ڈالنے سے گریز کیا، جبکہ ان کے مطابق گورنر راج کی سمری پر صدر پاکستان نے دستخط کیے تھے۔
پی ٹی آئی ترجمان نے کہا کہ ان کی جماعت جس سیاسی جدوجہد میں مصروف ہے وہ معمولی نہیں اور وہ اسے جاری رکھیں گے۔ ان کے بقول، ’’ہم کہیں جانے والے نہیں، ہم یہ جنگ لڑتے رہیں گے۔‘‘



