فیصل واوڈا کی پی ٹی آئی پر کڑی تنقید، خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کو ناگزیر قرار دے دیا

اسلام آباد(جانوڈاٹ پی کے) سینیٹر فیصل واوڈا نے پاکستان تحریک انصاف کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کا شو ختم ہوچکا، خیبرپختونخوا میں امن و امان کی تشویشناک صورتحال کے باعث ایمرجنسی ناگزیر ہوگئی تھی، جبکہ دہشت گردی کا ہر صورت خاتمہ کرنا ہوگا۔
اسلام آباد پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے فیصل واوڈا نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کا فیصلہ صوبے کے عوام کے مفاد میں ہے اور اس کا بنیادی مقصد لوگوں کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔ ان کے بقول قومی ترانے اور پرچم کی بے حرمتی کرنے والوں کو عوام کے سامنے جواب دہ ہونا چاہیے۔
فیصل واوڈا نے دعویٰ کیا کہ وہ ایک سال پہلے ہی موجودہ صورتحال سے متعلق خبردار کرچکے تھے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا جھنڈا اور قومی تشخص ہر چیز پر مقدم ہونا چاہیے اور ملک سے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے تمام متعلقہ اداروں کو مل کر کام کرنا ہوگا۔
انہوں نے خیبرپختونخوا میں گزشتہ 13 سال کے دوران رہنے والی پی ٹی آئی کی حکومتوں پر تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ اس عرصے میں صوبے کو تباہی کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا عوام کا صوبہ ہے، کسی کی ذاتی جاگیر نہیں، جبکہ دہشت گردی کے واقعات میں سکیورٹی اہلکاروں کی شہادتوں کے باوجود من مانیاں برداشت نہیں کی جاسکتیں۔
سینیٹر فیصل واوڈا نے کہا کہ پاک فوج اور پولیس اہلکاروں سمیت ہزاروں افراد دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جانیں قربان کرچکے ہیں۔ ان کے مطابق دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ریاستی اداروں کا ساتھ دینا ضروری ہے اور شہدا کی قربانیوں کا احترام کیا جانا چاہیے۔
60 دن میں نتائج سامنے آنے کا دعویٰ
فیصل واوڈا نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں نئے سیٹ اپ سے اب ناکامی کی کوئی گنجائش نہیں رہی۔ انہوں نے گورنر فیصل کریم کنڈی سے متعلق کہا کہ ان سے بھی سوالات کیے جائیں گے اور توقع ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریاں مؤثر انداز میں ادا کریں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ فیلڈ مارشل کو کھل کر حمایت فراہم کی جانی چاہیے، جبکہ آئندہ 60 دن میں نتائج نظر آنا شروع ہوجائیں گے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ عوام اب سیاسی نعروں کے بجائے کارکردگی کی بنیاد پر حمایت کریں گے۔
فیصل واوڈا نے مزید کہا کہ ملک میں دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں اور امن و امان کی بہتری کے لیے سنجیدہ اقدامات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کسی ایک شخصیت یا جماعت کے نعروں سے نہیں بلکہ قومی یکجہتی اور اداروں کی کارکردگی سے آگے بڑھے گا۔
پی ٹی آئی کے مستقبل پر بھی سوالات اٹھا دیے
پریس کانفرنس کے دوران فیصل واوڈا نے پی ٹی آئی کے سیاسی مستقبل پر بھی تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ پارٹی کا موجودہ سیاسی شو ختم ہوچکا ہے اور آنے والے دنوں میں مزید سیاسی مراحل سامنے آسکتے ہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی کے بعض کابینہ ارکان کے درمیان اسلام آباد میں موجودگی کے دوران بھی اختلافات تھے اور مبینہ طور پر اسمگل شدہ گاڑیوں اور پیسوں کے معاملات پر تنازعات چل رہے ہیں۔ یہ الزامات فیصل واوڈا نے اپنی پریس کانفرنس میں عائد کیے۔
انہوں نے کہا کہ وہ متعدد معاملات مولانا فضل الرحمان اور صدر آصف علی زرداری کے سامنے بھی رکھیں گے۔ فیصل واوڈا کے مطابق ملک کی ترقی کے لیے دونوں رہنماؤں کا تعاون اہم ہوگا، جبکہ ان کے ساتھ ذاتی تعلقات بھی موجود ہیں۔
سینیٹر فیصل واوڈا نے خیبرپختونخوا کی صورتحال کو ملک میں سکیورٹی اور سیاسی استحکام کے لیے اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کا خاتمہ، قومی پرچم کا احترام اور عوام کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی بنیادی ترجیحات ہونی چاہئیں۔



