اسلام آباد ہائیکورٹ کا سی ڈی اے ممبر اسٹیٹ کے خلاف توہینِ عدالت کی کارروائی کا آغاز، معافی کی استدعا مسترد

اسلام آباد(جانوڈاٹ پی کے) اسلام آباد ہائیکورٹ نے بیماری کے باعث پیش نہ ہونے سے متعلق معاملے پر کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کے ممبر اسٹیٹ زمان وٹو کے خلاف توہینِ عدالت کی کارروائی شروع کر دی۔ چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے زمان وٹو کی جانب سے معافی کی ابتدائی استدعا مسترد کر دی۔
سماعت کے دوران سی ڈی اے کے وکیل نذیر جواد نے اپنے مؤکل زمان وٹو کی جانب سے غیر مشروط معافی کی استدعا کی۔ اس موقع پر ممبر اسٹیٹ سی ڈی اے اپنے وکیل کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے۔
چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے ریمارکس دیے کہ پہلے توہینِ عدالت کے معاملے کی سماعت ہوگی، اس کے بعد مرکزی درخواست سنی جائے گی۔ انہوں نے آئندہ سماعت پر پراسیکیوٹر کو تیاری کے ساتھ پیش ہونے کی ہدایت بھی کی۔
چیف جسٹس نے کہا کہ گزشتہ سماعت پر عدالت نے حکم جاری کیا تھا کہ متعلقہ افسر دوسری عدالت میں پیش ہوئے، لیکن یہاں پیش نہیں ہوئے۔
سی ڈی اے کے وکیل نذیر جواد نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے مؤکل نے بیماری کا بہانہ بنانے کی بات نہیں کی۔ اس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا عدالت کا تحریری حکم غلط ہے، جس میں دوسری عدالت میں پیش ہونے کا ذکر کیا گیا ہے؟
وکیل سی ڈی اے نے وضاحت کی کہ زمان وٹو دوسری عدالت میں اس لیے پیش ہوئے تھے تاکہ وہاں کی کارروائی جلد مکمل ہو سکے۔
بعد ازاں عدالت نے رجسٹرار آفس کو توہینِ عدالت کے معاملے کی الگ فائل تیار کرنے کا حکم دیتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔



