فرانس میں سیکڑوں سپر مارکیٹس پر سائبر حملہ، فریج اور فریزر 50 ڈگری تک گرم، کروڑوں یورو کے نقصان کا خدشہ

پیرس(مانیٹرنگ ڈیسک) فرانس میں سیکڑوں سپر مارکیٹس کے ریفریجریشن سسٹمز پر بڑے پیمانے پر سائبر حملے کے نتیجے میں فریج اور فریزر کا درجہ حرارت غیر معمولی حد تک بڑھ گیا، جس سے تازہ اور منجمد خوراک کے بڑے ذخائر خراب ہوگئے۔ بعض اسٹورز میں آگ لگنے کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے ہیں، جبکہ حکام نے حملے کی تحقیقات شروع کردی ہیں۔ ابتدائی اندازوں کے مطابق مالی نقصان کروڑوں یورو تک پہنچ سکتا ہے۔
الجزیرہ، اے ایف پی اور رائٹرز کے مطابق فرانس کی بڑی ریٹیل کمپنیوں انٹرمارشے، کوآپریٹو یو، ای لی کلرک، کیریفور اور مونوپری نے پیر کو سائبر حملے کی تصدیق کی۔ کمپنیوں نے اس واقعے کو غیر معمولی قرار دیتے ہوئے بتایا کہ ان کے متعدد اسٹورز کے ریفریجریشن نظام متاثر ہوئے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق انٹرمارشے اور اس کے نیٹو برانڈ کے کم از کم 300 اسٹورز، کوآپریٹو یو کے 100 سے زائد مراکز اور کیریفور کے 80 سپر مارکیٹس متاثر ہوئے۔ مونوپری کے مطابق اس کے تقریباً 490 اسٹورز میں سے 5 فیصد کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ ای لی کلرک کے بھی متعدد مراکز متاثر ہوئے۔
پیرس پراسیکیوٹر آفس کے مطابق حملے میں بڑی فوڈ ریٹیل کمپنیوں کے انٹرنیٹ سے منسلک ریفریجریشن سسٹمز کو نشانہ بنایا گیا، جس کے باعث خوراک ضائع ہوئی اور بعض مقامات پر آگ لگنے کے واقعات پیش آئے۔
فریج اور فریزر کا درجہ حرارت 50 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا
ابتدائی معلومات کے مطابق ہیکرز نے دور سے ریفریجریشن سسٹمز میں زبردستی ڈی فراسٹنگ کا عمل شروع کیا، جس کے باعث متعدد اسٹورز میں فریج اور فریزر کا درجہ حرارت 50 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا۔ اس غیر معمولی صورتحال کے نتیجے میں تازہ اور منجمد اشیائے خورونوش کے بڑے ذخائر خراب ہوگئے۔
انٹرمارشے کے چیف ایگزیکٹو تھیری کوتیلارڈ نے فرانسیسی ٹی وی چینل بی ایف ایم کو بتایا کہ حملے سے ملک بھر میں ایک ہی دن کے دوران کروڑوں یورو کا نقصان ہوسکتا ہے۔ کمپنی کے مطابق متاثرہ اسٹورز کو خراب ہونے والی تازہ اور منجمد مصنوعات تلف کرنا پڑیں گی۔
کوآپریٹو یو کے سربراہ ڈومینک شیلشر نے بتایا کہ کمپنی کے ریفریجریشن سسٹمز اتوار کی رات سے متاثر تھے۔ ان کے مطابق خوراک کو محفوظ رکھنے اور عوام کی غذائی ضروریات پوری کرنے والے نظام کو نشانہ بنانا انتہائی سنگین اقدام ہے۔
فرانسیسی حکومت نے تحقیقات کا حکم دے دیا
فرانس کے وزیراعظم سیباستیاں لیکورنو نے قومی سائبر سکیورٹی ایجنسی (ANSSI) کو حملے کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔ حکام دیگر یورپی ممالک کے ساتھ رابطے میں ہیں تاکہ معلوم کیا جاسکے کہ آیا اس سائبر حملے سے مزید ممالک کی کمپنیاں بھی متاثر ہوئی ہیں۔
وزیراعظم کے دفتر سے وابستہ ایک ذریعے کے مطابق تحقیقات کے دوران ڈنمارک کی کمپنی ڈانفوس کے تیار کردہ سافٹ ویئر میں ممکنہ کمزوری کی نشاندہی ہوئی ہے۔ ڈانفوس نے بھی فرانس میں ریفریجریشن مینجمنٹ کے محدود تعداد میں سسٹمز متاثر ہونے کی اطلاعات کی تصدیق کی۔
کمپنی کے مطابق متاثرہ یونٹس میں پرانا فرم ویئر استعمال کیا جارہا تھا، جبکہ صارفین کو اپنے سسٹمز اپ ڈیٹ رکھنے کی ہدایات دی جاتی رہی ہیں۔ سائبر سکیورٹی ماہرین نے بھی اگست میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں ڈانفوس کے بعض سسٹمز میں ایسی ممکنہ کمزوریوں کی نشاندہی کی تھی جن کے ذریعے حفاظتی تصدیقی مراحل کو نظرانداز کیا جاسکتا تھا۔
دیگر یورپی ممالک بھی متاثر ہونے کا خدشہ
سائبر خطرات کے ماہر فیلکس ایمے نے رائٹرز کو بتایا کہ اسپین، پرتگال، پولینڈ، جرمنی اور بیلجیم بھی متاثرہ ممالک میں شامل ہیں، تاہم ان ممالک میں ہونے والے نقصان کی تفصیلات تاحال سامنے نہیں آئیں۔
ماہرین کے مطابق انٹرنیٹ سے منسلک صنعتی آلات میں موجود حفاظتی خامیوں سے فائدہ اٹھا کر ہیکرز اہم نظاموں کو دور بیٹھ کر کنٹرول کرسکتے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر مستقبل میں توانائی کے نظام یا اسپتالوں جیسے حساس اداروں کو نشانہ بنایا گیا تو اس کے نتائج کہیں زیادہ سنگین ہوسکتے ہیں۔
تاحال سائبر حملے کے ذمہ دار افراد یا گروہ کی شناخت نہیں ہوسکی۔ فرانس میں متاثرہ سپر مارکیٹس کے ریفریجریشن سسٹمز بحال کرنے اور مالی نقصان کا حتمی تخمینہ لگانے کا عمل جاری ہے۔



