پی ٹی آئی سے مذاکرات میں بڑے بریک تھرو کی امید کم ہے، بات چیت کا راستہ بند نہیں ہوا، رانا ثنا اللہ

اسلام آباد(جانوڈاٹ پی کے) وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ساتھ مذاکرات میں فی الحال کسی بڑے بریک تھرو کی زیادہ امید نہیں، تاہم حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان صورتحال اتنی پیچیدہ نہیں کہ بات چیت کا راستہ مکمل طور پر بند ہو جائے۔
نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے بتایا کہ پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات ختم ہونے کے بعد بھی دونوں جانب رابطے برقرار رہے ہیں۔ ان کے مطابق وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے پی ٹی آئی رہنماؤں سے رابطے ہیں، جبکہ بیرسٹر گوہر علی خان، عامر ڈوگر اور اسد قیصر سے بھی ٹیلی فون پر بات چیت ہوتی رہی ہے۔
رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کا اپنا سیاسی مؤقف ہے اور حکومت کا اپنا نقطۂ نظر ہے۔ کسی سمجھوتے یا مفاہمت کے بغیر مذاکرات دوبارہ شروع کرنا زیادہ مفید نہیں ہوگا، تاہم اگر کسی معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جائے تو بات چیت کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت ایک طرف مذاکرات کے امکانات کا جائزہ لے رہی ہے تو دوسری جانب پی ٹی آئی کے لانگ مارچ سے متعلق صورتحال پر بھی نظر رکھے ہوئے ہے۔
خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف اقدامات پر بات کرتے ہوئے وزیراعظم کے مشیر نے صوبائی حکومت پر زور دیا کہ وہ اس جنگ میں اپنا مؤثر کردار ادا کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کی کامیابی کے لیے صوبائی حکومت کا تعاون انتہائی اہم ہے، کیونکہ پولیس، کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) اور دیگر سول انتظامی معاملات صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہیں۔
رانا ثنا اللہ نے مزید کہا کہ اگر خیبر پختونخوا حکومت دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنا کردار ادا کرے تو بہت سے مسائل حل ہو سکتے ہیں اور سکیورٹی آپریشنز کے نتائج بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔
بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقاتوں اور ان کے علاج کے معاملات پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ تمام امور قانون اور جیل مینوئل کے مطابق طے ہونے چاہئیں۔ ان کے مطابق بانی پی ٹی آئی سے ملاقاتیں شروع کرنے کے لیے منگل کا وقت دیا گیا تھا، تاہم ہدایت کی گئی تھی کہ ان ملاقاتوں کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہ کیا جائے۔
رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ ملاقاتوں کے سیاسی استعمال کے باعث بعد میں مسائل پیدا ہوئے۔ ان کے مطابق بانی پی ٹی آئی سے ملاقاتوں سمیت دیگر معاملات پر تفصیلی بات چیت ہوئی تھی اور یہ اتفاق بھی کیا گیا تھا کہ کسی مسئلے کی صورت میں مذاکرات کے لیے متعلقہ پلیٹ فارم فراہم کیا جائے گا۔



