ٹرمپ کے لاس اینجلس اور سان ڈیاگو سے متعلق بیان پر ہنگامہ، وائٹ ہاؤس میدان میں آگیا

 واشنگٹن (جانو ڈاٹ پی کے) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران سے متعلق متنازع بیان پر سیاسی ہلچل مچ گئی، جس کے بعد وائٹ ہاؤس نے وضاحت دیتے ہوئے کہا ہے کہ صدر کا مقصد امریکی شہروں کو ایران کے حوالے کرنا یا ان کی تباہی کی اجازت دینا نہیں تھا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق صدر ٹرمپ نے پیر کو ریاست نیبراسکا میں وسط مدتی انتخابات کی ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ایران کے ساتھ جنگ کے تناظر میں تیل کی بلند قیمتوں کا دفاع کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ قیمت امریکا اور دنیا کو محفوظ رکھنے کے لیے ادا کی جا رہی ہے۔

ٹرمپ نے اپنے مؤقف کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ یہ قیمت بظاہر زیادہ ہے، لیکن ملک کے عوام اور ان کی جان و مال کے تحفظ کے مقابلے میں معمولی ہے۔ اسی دوران انہوں نے لاس اینجلس اور سان ڈیاگو کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایران کو کسی امریکی شہر کو تباہ کرنے دیا جائے تو یہ بھی ایک قیمت ہوگی جو ادا کرنا پڑے گی، اور ان کے بقول جنگ جلد ختم ہوجائے گی۔

صدر کی تقریر کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد ان کے الفاظ پر شدید ردعمل سامنے آیا۔ ڈیموکریٹک رہنماؤں نے الزام لگایا کہ ٹرمپ اپنے بیان میں امریکی شہروں کو ایران کے ممکنہ حملوں کا نشانہ بننے دینے کی بات کر رہے تھے۔

کیلیفورنیا کے گورنر گیون نیوسم نے صدر کے بیان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ اب غیر ملکی دشمن کی جانب سے لاس اینجلس اور سان ڈیاگو کی تباہی کا ذکر کر رہے ہیں۔ ایوانِ نمائندگان میں ڈیموکریٹک اقلیتی رہنما حکیم جیفریز نے بھی کہا کہ کسی امریکی شہر کی جوہری تباہی ایسی بات نہیں جسے مذاق یا معمولی معاملہ سمجھا جائے۔

دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے ڈیموکریٹس کی اس تشریح کو مسترد کردیا۔ وائٹ ہاؤس کے ڈائریکٹر برائے مواصلات اسٹیون چیونگ نے کہا کہ صدر ٹرمپ واضح طور پر یہ بتا رہے تھے کہ اگر ایران کو جوہری طاقت بننے سے نہ روکا جاتا تو امریکی شہر خطرے سے دوچار ہوسکتے تھے۔

وائٹ ہاؤس کے ریپڈ رسپانس اکاؤنٹ نے بھی لاس اینجلس ٹائمز کی اس سرخی پر اعتراض کیا جس میں یہ تاثر دیا گیا تھا کہ ٹرمپ نے ایران کو لاس اینجلس اور سان ڈیاگو تباہ کرنے کی اجازت دینے کی بات کی تھی۔

صدر کے بیان اور وائٹ ہاؤس کی وضاحت کے بعد یہ معاملہ امریکی سیاست میں ایک نئی بحث کا سبب بن گیا ہے، جہاں ڈیموکریٹک رہنما صدر کے الفاظ کو غیر ذمہ دارانہ قرار دے رہے ہیں، جبکہ وائٹ ہاؤس کا مؤقف ہے کہ ان کی گفتگو کا مقصد ایران کے جوہری خطرے سے متعلق انتباہ دینا تھا۔ 

مزید خبریں

Back to top button