پنجاب جوڈیشل اکیڈمی میں 41 ججز کی پری سروس ٹریننگ مکمل، جسٹس عالیہ نیلم کی شرکت

لاہور(جانوڈاٹ پی کے) پنجاب جوڈیشل اکیڈمی میں پنجاب کی ماتحت عدلیہ کے 41 ججز کی پری سروس ٹریننگ مکمل ہونے پر اختتامی تقریب کا انعقاد کیا گیا، چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عالیہ نیلم نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔
تقریب میں سینئر جج جسٹس عابد عزیز شیخ، جسٹس شہباز رضوی، رجسٹرار لاہور ہائیکورٹ اور ڈائریکٹر جنرل پنجاب جوڈیشل اکیڈمی جسٹس ریٹائرڈ سردار احمد نعیم سمیت دیگر افسران نے شرکت کی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عالیہ نیلم نے تربیت مکمل کرنے والے ججز کو جوڈیشل فیملی میں خوش آمدید کہا۔ انہوں نے کہا کہ جج ایک عام فرد نہیں ہوتا، اسے اپنے منصب کی ذمہ داریوں کا احساس ہونا چاہیے اور اپنے رویے میں شائستگی اختیار کرنی چاہیے۔
جسٹس عالیہ نیلم نے کہا کہ جج کا منصب ایسا ہے جس کا غلط استعمال نہیں کیا جا سکتا، عدالتی فرائض ایمانداری اور ذمہ داری سے انجام دینے چاہئیں۔ ان کے مطابق غلط فیصلے کرنے والے ججز اللہ تعالیٰ کے سامنے جواب دہ ہوں گے۔
چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے کہا کہ جج کا قلم ہمیشہ چلتا ہے، تاہم یہ جج کی ذمہ داری ہے کہ اس کے قلم سے صادر ہونے والے فیصلے انصاف کے تقاضوں کے مطابق ہوں۔ انہوں نے کہا کہ جج کے ہر فیصلے میں اللہ تعالیٰ کی رہنمائی شامل ہونی چاہیے۔
جسٹس عالیہ نیلم نے ججز کو تلقین کی کہ دن کا آغاز اللہ تعالیٰ کے نام سے کریں، کیونکہ اس سے کاموں میں رہنمائی ملتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جج کو اپنے منصب کے اختیار کا غلط استعمال نہیں کرنا چاہیے اور عہدے کو اپنے ذہن پر حاوی نہیں ہونے دینا چاہیے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ جج کی ذمہ داری بہت بڑی ہوتی ہے کیونکہ اس کے فیصلے لوگوں کی زندگیوں پر براہ راست اثر انداز ہوتے ہیں، اس لیے عدالتی فرائض انتہائی ذمہ داری، دیانت داری اور قانون کے مطابق انجام دینا ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ کسی فیصلے کے بعد وہ اس سوچ میں نہیں رہتیں کہ ان سے غلط فیصلہ ہوا، بلکہ اپنے فیصلے کے درست ہونے کے یقین کے ساتھ آگے بڑھتی ہیں۔
جسٹس عالیہ نیلم نے کہا کہ ان کے مطابق ایک اچھا عدالتی فیصلہ 70 ہزار سال کی عبادت سے زیادہ افضل ہے۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ ہر جج کو یہ اعتماد ہونا چاہیے کہ پنجاب جوڈیشری قانون اور انصاف کے تقاضوں کے مطابق اپنا کردار ادا کر رہی ہے۔
تقریب کے اختتام پر پری سروس ٹریننگ مکمل کرنے والے 41 ججز کو مبارکباد دی گئی اور انہیں عدالتی منصب کی ذمہ داریاں قانون، انصاف اور دیانت داری کے اصولوں کے مطابق ادا کرنے کی تلقین کی گئی۔ اس موقع پر ججز میں شیلڈز بھی تقسیم کی گئیں۔



