میر رضا قتل کیس میں 78 افراد کے بیانات ریکارڈ، تاحال قاتل کا سراغ نہ مل سکا

کراچی(جانو ڈاٹ پی کے) میر رضا قتل کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، کراچی پولیس چیف آزاد خان نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اب تک درجنوں افراد کے بیانات ریکارڈ کیے جاچکے ہیں تاہم تفتیش کے باوجود قتل کے ملزمان تک رسائی حاصل نہیں ہوسکی۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کا اجلاس ثمینہ ممتاز زہری کی زیر صدارت ہوا، جس میں میر رضا کیس پر سندھ پولیس حکام نے تفصیلی بریفنگ دی۔ سینیٹ کے سرکاری ریکارڈ کے مطابق کمیٹی کو بتایا گیا کہ میر رضا کے والد نے جولائی 2026 میں ان کے لاپتا ہونے کی اطلاع دی تھی، جبکہ بعد ازاں کیس کی تحقیقات کے دوران ابتدائی اور دوسری پوسٹ مارٹم رپورٹ بھی سامنے آئی۔
بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ میر رضا کی موت 28 جولائی کو ہوئی جبکہ اگلے روز ان کے والد نے رپورٹ درج کرائی۔ جائے وقوعہ سے خون کے شواہد، پھول دان، خون سے بھرا لفافہ اور 30 بور پستول کا خول ملنے کی تفصیلات بھی کمیٹی کے سامنے رکھی گئیں۔
پولیس حکام کے مطابق کیس کی پہلی تحقیقاتی ٹیم یکم اگست کو تشکیل دی گئی جبکہ 9 اگست کو نئی تحقیقاتی ٹیم بنائی گئی۔ بعد ازاں ڈی آئی جی کرائم اینڈ انویسٹی گیشن سندھ کراچی عامر فاروقی کی سربراہی میں نئی ٹیم تشکیل دی گئی تھی۔
بینک اکاؤنٹ، سوشل میڈیا اور سفر سے متعلق اہم سوالات
اجلاس میں سینیٹر قرۃ العین مری نے پولیس چیف سے سوال کیا کہ آیا میر رضا نے موت سے قبل اپنے بینک اکاؤنٹس سے رقم والدین کو منتقل کردی تھی، اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بند کیے تھے اور معمول کے برخلاف اپنی گاڑی استعمال کرنے کے بجائے آن لائن گاڑی بک کرکے روانہ ہوئے تھے۔
بریفنگ کے مطابق پولیس حکام نے ان نکات کی تصدیق کی۔ بتایا گیا کہ میر رضا گھر سے پستول لے کر نکلے تھے اور اپنی گاڑی کی چابی، گھڑی، گاڑی اور بٹوا گھر پر چھوڑ گئے تھے۔
پولیس کے مطابق میر رضا شام 4 بج کر 9 منٹ پر ایک سفید گاڑی میں گھر سے روانہ ہوئے اور 4 بج کر 28 منٹ پر گلستانِ جوہر کی منظور اسٹریٹ میں اترے، جبکہ بعد میں انہیں نرسری کی جانب جاتے ہوئے بھی دیکھا گیا۔
پوسٹ مارٹم رپورٹس میں اختلاف نے معاملہ مزید پیچیدہ کردیا
پولیس چیف نے کمیٹی کو بتایا کہ 29 جولائی کی ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں گولی سامنے سے لگنے کا ذکر تھا، جبکہ بعد کی رپورٹ میں گولی کے پیچھے سے داخل ہوکر سینے سے نکلنے کی بات سامنے آئی۔
دستیاب عدالتی و طبی ریکارڈ کے مطابق دوسری پوسٹ مارٹم رپورٹ میں گولی کا داخلی زخم جسم کے پچھلے حصے پر اور خارجی زخم سینے کے اگلے حصے پر قرار دیا گیا، جبکہ رپورٹ میں موت کے طریقہ کار کو خودکشی سے غیر مطابقت رکھنے والا قرار دیا گیا تھا۔
اس معاملے پر سندھ ہائی کورٹ کی جانب سے تشکیل دیے گئے ایک رکنی جوڈیشل کمیشن نے بھی مختلف گواہوں، پولیس حکام اور طبی ماہرین کے بیانات ریکارڈ کیے ہیں اور پوسٹ مارٹم کے عمل سے متعلق سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
تشدد اور تیزاب کے ذرات سے متعلق شواہد
کمیٹی اجلاس میں میر رضا پر مبینہ تشدد کے حوالے سے بھی سوالات کیے گئے۔ پولیس حکام کے مطابق ان کی شرٹ پر ہائیڈروکلورک ایسڈ کے کچھ ذرات کے شواہد ملے جبکہ چہرے پر بھی تشدد کے نشانات کا ذکر کیا گیا۔
اس سے قبل کیمیائی معائنے سے متعلق رپورٹ میں بھی شرٹ پر تیزاب کے ذرات اور گولیوں کے نشانات کی موجودگی رپورٹ ہوئی تھی۔
مالی نقصان بھی زیر بحث
ایڈیشنل آئی جی سندھ کے مطابق میر رضا کو جولائی میں تقریباً ساڑھے 4 کروڑ روپے کا مالی نقصان ہوا تھا۔ پولیس نے ان کے ہاتھوں پر گن شاٹ ریزیڈیو سے متعلق شواہد بھی ملنے کی اطلاع دی۔
پولیس حکام کے مطابق اب تک 78 افراد کے بیانات ریکارڈ کیے جاچکے ہیں، تاہم تفتیش میں ابھی تک کسی فرد سے قتل کا واضح سراغ نہیں ملا۔
دوسری جانب میر رضا کے اہل خانہ واقعے کو قتل قرار دیتے رہے ہیں، جس کے باعث پولیس کا کہنا ہے کہ کیس کی تفتیش قتل کے زاویے سے بھی جاری ہے۔
24 ستمبر کو کراچی میں کمیٹی کا اجلاس
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کی چیئرپرسن نے اعلان کیا کہ کمیٹی کا آئندہ اجلاس 24 ستمبر کو کراچی میں ہوگا۔ اس موقع پر میر رضا کیس کی تحقیقاتی ٹیم کو بھی طلب کرکے اب تک کی تفتیش اور پیش رفت پر بریفنگ دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
دستیاب رپورٹس کے مطابق کیس کی عدالتی نگرانی بھی جاری ہے اور جوڈیشل کمیشن پولیس تفتیش، شواہد اور پوسٹ مارٹم کے معاملات کا جائزہ لے رہا ہے۔



