ایران کیلئے عالمی سطح پر خطرے کی گھنٹی،امریکا اور یورپی ممالک کی قرارداد منظور،چین، روس اور نائجر نے مخالفت کردی

ویانا (جانو ڈاٹ پی کے) بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کے 35 رکنی بورڈ آف گورنرز نے ایران کو جوہری عدم پھیلاؤ کی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی سے متعلق معاملہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں رپورٹ کرنے کی قرارداد منظور کرلی۔
ویانا میں ہونے والے اجلاس میں قرارداد کے حق میں 23 ممالک نے ووٹ دیا، جبکہ چین، روس اور نائجر نے مخالفت کی۔ 8 ممالک نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا یا غیر جانب دار رہے۔
یہ قرارداد امریکا، برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے پیش کی تھی۔ فراہم کردہ رپورٹ کے مطابق تقریباً دو دہائیوں بعد یہ ایک اہم موقع ہے جب IAEA بورڈ نے ایران کے جوہری معاملے کو اس انداز میں سلامتی کونسل کے سامنے لے جانے کا فیصلہ کیا ہے۔
قرارداد میں ایران کی جانب سے اپنے جوہری پروگرام سے متعلق مکمل معلومات فراہم نہ کرنے اور IAEA کے معائنہ کاروں کو مطلوبہ رسائی نہ دینے پر تشویش ظاہر کی گئی ہے۔
IAEA کے مطابق ایجنسی کو ایران کے جوہری مواد اور بعض تنصیبات کے حوالے سے مکمل اور تازہ معلومات دستیاب نہیں۔ ماضی میں ایسے مقامات پر یورینیئم کے ذرات بھی ملے تھے جنہیں ایران نے اپنی جوہری سرگرمیوں کے لیے ظاہر نہیں کیا تھا، جن کے بارے میں ایجنسی مزید وضاحت چاہتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایران کے پاس گزشتہ ریکارڈ میں 440.9 کلوگرام تک 60 فیصد افزودہ یورینیئم موجود تھا، تاہم حالیہ جنگ اور جوہری تنصیبات پر حملوں کے بعد IAEA اس ذخیرے کی موجودہ صورتحال کی مکمل تصدیق نہیں کر سکی۔
60 فیصد تک افزودہ یورینیئم براہِ راست جوہری ہتھیار کے لیے درکار درجے تک نہیں پہنچتا، تاہم مزید افزودگی کی صورت میں اسے ہتھیار بنانے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ ایران مسلسل مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پُرامن مقاصد کے لیے ہے اور وہ جوہری ہتھیار بنانے کا ارادہ نہیں رکھتا۔
🇨🇳 چین، روس اور نائجر کا ایران کے حق میں ووٹ
چین نے قرارداد کی مخالفت کرتے ہوئے اسے سفارتی حل کے بجائے ایران پر سیاسی دباؤ بڑھانے کی کوشش قرار دیا۔ چینی نمائندے نے کہا کہ سیاسی محاذ آرائی اور دباؤ کشیدگی میں مزید اضافہ کرسکتا ہے۔
چین نے ایران کے جوہری معاملے کے حل کے لیے مذاکرات اور سفارتی رابطوں کی بحالی پر زور دیا اور ایران کی جوہری تنصیبات پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں کو بھی IAEA اور ایران کے درمیان معمول کے تعاون میں رکاوٹ قرار دیا۔
روس اور نائجر نے بھی قرارداد کی مخالفت کی، جس سے ایران کو اس معاملے پر دو اہم اتحادیوں کی حمایت حاصل رہی ہے۔
تاہم سلامتی کونسل میں کسی بھی سخت اقدام کے امکانات پر چین اور روس کا مؤقف انتہائی اہم ہوگا، کیونکہ دونوں مستقل ارکان ہیں اور انہیں ویٹو کا اختیار حاصل ہے۔
⚠️ کیا ایران پر فوری پابندیاں لگ گئی ہیں؟
قرارداد کی منظوری کا مطلب یہ نہیں کہ ایران پر فوری طور پر نئی پابندیاں عائد ہوگئی ہیں۔ تاہم اس فیصلے سے ایران کے جوہری معاملے کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایجنڈے تک لے جانے کا راستہ کھل گیا ہے، جہاں مزید کارروائی کے لیے الگ سفارتی اور قانونی مراحل ہوں گے۔



