آئی اے ای اے نے امریکا اور اتحادیوں کے دباؤ پر قرار داد منظور کی، ایران کا الزام

تہران(مانیٹرنگ ڈیسک) ایران نے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے بورڈ آف گورنرز کی جانب سے ایران کے جوہری معاملے کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل تک پہنچانے کی قرارداد کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے امریکا اور اس کے اتحادیوں کے سیاسی دباؤ کا نتیجہ قرار دیا ہے۔

ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق آئی اے ای اے بورڈ آف گورنرز نے ایران کی جانب سے جوہری نگرانی کے معاملے میں ’عدم تعاون‘ کے حوالے سے قرارداد منظور کی، جس کے تحت ایجنسی کی تشویش اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل تک پہنچائی جائے گی۔ یہ اقدام تقریباً دو دہائیوں بعد ایران کے خلاف اس نوعیت کی بڑی سفارتی پیش رفت ہے۔ 

آئی اے ای اے میں ایران کے نمائندے رضا نجفی نے سرکاری ٹیلی ویژن سے گفتگو کرتے ہوئے قرارداد کو مسترد کردیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدام امریکا اور اس کے اتحادیوں کے سیاسی دباؤ کے تحت کیا گیا ہے اور ایران کے نزدیک اس کی کوئی قانونی یا فنی بنیاد نہیں۔

رضا نجفی نے کہا کہ ایران اس قرارداد کو سیاسی آلہ سمجھتا ہے اور اس سے کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوگا۔ ان کے مطابق موجودہ حالات میں ایران کے جوہری تنصیبات تک آئی اے ای اے کے معائنہ کاروں کی رسائی بھی جاری فوجی کارروائیوں اور سکیورٹی خطرات کے باعث انتہائی مشکل ہے۔ 

دوسری جانب آئی اے ای اے کا مؤقف ہے کہ ایران نے جوہری مواد سے متعلق بعض معاملات کی وضاحت اور متاثرہ تنصیبات تک ضروری رسائی فراہم نہیں کی، جس کے باعث ایجنسی ایران کے جوہری ذخیرے اور سرگرمیوں کی مکمل تصدیق کرنے سے قاصر ہے۔

رپورٹس کے مطابق قرارداد امریکا، برطانیہ، فرانس اور جرمنی کی جانب سے پیش کی گئی، جس کے حق میں 23 ممالک نے ووٹ دیا جبکہ روس، چین اور نائجر نے مخالفت کی۔ آٹھ ممالک نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔ 

ایران کا کہنا ہے کہ اس کے جوہری پروگرام کا مقصد پرامن ہے اور موجودہ صورتحال میں آئی اے ای اے کے اقدامات نے باہمی اعتماد کو مزید متاثر کیا ہے۔

مزید خبریں

Back to top button