وفاقی وزراء کے نئے صوبوں سے متعلق بیانات میں تضاد نظر آ رہا ہے، امتیاز شیخ

کراچی (جانوڈاٹ پی کے) پیپلز پارٹی کے رہنما اور رکن سندھ اسمبلی امتیاز شیخ نے نئے صوبوں کے قیام سے متعلق وفاقی وزراء کے بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ کی تقسیم کے معاملے پر سندھ اسمبلی کی قرارداد منتخب نمائندوں کا حتمی فیصلہ ہے۔

امتیاز شیخ نے کہا کہ سندھ کی تقسیم کے معاملے پر پیپلز پارٹی اور منتخب ایوان عوامی خواہشات کے ترجمان ہیں، جبکہ نئے صوبوں کے قیام کے حوالے سے وفاقی وزراء کے بیانات میں واضح تضاد نظر آرہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں جمہوری نظام ہے اور تمام فیصلے جمہوری اصولوں اور عوام کی رائے کے مطابق ہونے چاہئیں۔ عوام کی مرضی کے خلاف کوئی فیصلہ مسلط نہیں کیا جاسکتا، کیونکہ عوامی رائے کا احترام ہی جمہوریت کی بنیادی روح ہے۔

پیپلز پارٹی رہنما کا کہنا تھا کہ سندھ کے عوام نے سندھ کی وحدت کے حق میں واضح مؤقف اختیار کیا ہے، اس لیے عوامی رائے کا احترام کیا جانا چاہیے۔ عوام کو اپنے حقوق اور مفادات کے اظہار کا مکمل حق حاصل ہے اور عوام کی آواز دبانا جمہوریت نہیں۔

امتیاز شیخ نے وفاقی وزیر احسن اقبال کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ پہلے چار صوبوں کو وسائل فراہم نہیں کر پا رہے، پندرہ صوبے بنا کر کیا دودھ کی نہریں نکالیں گے؟

انہوں نے کہا کہ پندرہ صوبے بنانے کی بات کرنے والوں کو پہلے ملک کی معاشی صورتحال اور انتظامی اخراجات کا جائزہ لینا چاہیے۔ 15 صوبوں کا مطلب 15 وزرائے اعلیٰ، 15 کابینہ اور ایک وسیع انتظامی ڈھانچہ ہوگا، سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان کی معیشت یہ اضافی بوجھ برداشت کرسکتی ہے؟

امتیاز شیخ نے کہا کہ نئے صوبوں کی بات کرنے سے پہلے عوام اور ملک کے معاشی مفادات کو سامنے رکھنا ہوگا۔ صوبوں کی تعداد بڑھانے سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ وسائل کی منصفانہ تقسیم، اختیارات کی منتقلی اور بہتر حکمرانی پر توجہ دینا ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ سندھ اور فریال تالپور نے اپنے خطابات میں نہ صرف سندھ بلکہ چاروں صوبوں کی ترجمانی کی ہے۔ سندھ کی وحدت اور سالمیت کے حوالے سے سندھ اسمبلی کا مؤقف واضح اور دوٹوک ہے۔

امتیاز شیخ نے ایم کیو ایم پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سندھ کے شہری علاقوں میں اس جماعت کی سیاست کا خاتمہ ہوچکا ہے اور ایم کیو ایم کی قیادت اپنی سیاسی تشنگی مٹانے کے لیے وقتاً فوقتاً صوبے کی تقسیم کا شوشہ چھوڑتی رہتی ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایم کیو ایم کے منتخب نمائندے بھی اپنی قیادت کے مطالبات کو سنجیدہ نہیں لیتے۔ ایم کیو ایم کو سندھ کے عوام کی رائے کا احترام کرنا چاہیے اور سیاسی مقاصد کے لیے صوبائی تقسیم کا معاملہ نہیں اٹھانا چاہیے۔

پیپلز پارٹی رہنما نے کہا کہ سندھ کے عوام کسی بھی صورت صوبے کی تقسیم قبول نہیں کریں گے۔ وفاقی حکومت اور وزراء کو صوبوں کی تقسیم کے معاملے کو آگے بڑھانے سے پہلے وزیراعلیٰ پنجاب کی رائے بھی لے لینی چاہیے۔

مزید خبریں

Back to top button