چین کے J-16 اور مصری رافیلز پہلی بار آمنے سامنے، جنگی مشق میں بڑا فضائی مقابلہ

قاہرہ (جانو ڈاٹ پی کے): عالمی دفاعی منظرنامے میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں چین کے جدید J-16 جنگی طیاروں نے پہلی مرتبہ فرانسیسی ساختہ Rafale لڑاکا طیاروں کے ساتھ جنگی مشق میں حصہ لیا۔ یہ مشق مصر میں جاری چین اور مصر کی مشترکہ فضائی مشق "Eagles of Civilization 2026” کے دوران ہوئی۔

پیپلز لبریشن آرمی ایئر فورس کے مطابق اتوار کو ہونے والی پروازوں میں چینی J-16 طیاروں نے مصری فضائیہ کے Rafale طیاروں کے ساتھ فضائی جنگ کے فرضی منظرناموں میں حصہ لیا۔ چینی فضائیہ کی جانب سے جاری ویڈیو میں J-16 کے کاک پٹ سے بنائی گئی فوٹیج بھی سامنے آئی، جس میں ایک Rafale طیارے کو چینی جنگی طیارے کے قریب پرواز اور مختلف حربی حرکات کرتے دیکھا جاسکتا ہے۔

پہلی بار چینی جنگی طیارے اور Rafale ایک ہی جنگی مشق میں

یہ پہلا موقع ہے کہ کسی چینی لڑاکا طیارے نے Rafale کے ساتھ ایسی جنگی مشق میں حصہ لیا ہے۔ دفاعی ماہرین کی توجہ اس لیے بھی اس مشق پر مرکوز ہے کہ J-16 ایک بھاری، دو نشستوں والا کثیرالمقاصد جنگی طیارہ ہے، جبکہ Rafale فرانس کا جدید کثیرالمقاصد لڑاکا طیارہ ہے۔

مشق میں پائلٹس نے ایک دوسرے کے طیاروں کی خصوصیات اور آپریشنل صلاحیتوں سے متعلق بریفنگ بھی حاصل کی، جبکہ فضائی حدود کے استعمال، پروازوں کے حفاظتی ضوابط، ٹیک آف اور لینڈنگ کے طریقہ کار اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے اصولوں پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

6 ہزار کلومیٹر کا سفر کرکے مصر پہنچے J-16

چینی J-16 طیاروں کی مصر میں موجودگی خود بھی ایک اہم پیش رفت ہے۔ رپورٹس کے مطابق یہ طیارے تقریباً 6 ہزار کلومیٹر کا سفر طے کرکے مصر پہنچے اور راستے میں فضائی ری فیولنگ بھی کی گئی۔ یہ J-16 کی افریقہ میں پہلی تعیناتی قرار دی جارہی ہے۔

چین نے اس مشق کیلئے J-16 کے علاوہ دیگر معاون فضائی اثاثے بھی مصر بھیجے ہیں، جبکہ مشق کا مقصد دونوں ممالک کی فضائی افواج کے درمیان تعاون، آپریشنل رابطے اور مشترکہ تربیتی صلاحیتوں کو بہتر بنانا ہے۔ یہ چین اور مصر کی دوسری مشترکہ فضائی مشق ہے۔

J-16 کی صلاحیتوں کا اہم امتحان

J-16 کو چین کا بھاری کثیرالمقاصد جنگی طیارہ سمجھا جاتا ہے، جو فضائی لڑائی کے ساتھ ساتھ زمینی اہداف کے خلاف کارروائیوں کیلئے بھی ڈیزائن کیا گیا ہے۔ اس کی بھاری جسامت اسے نسبتاً زیادہ ہتھیار اور دیگر جنگی سامان لے جانے کی صلاحیت فراہم کرتی ہے۔

Rafale کے ساتھ تربیتی مقابلہ چینی پائلٹس کیلئے ایک مختلف دفاعی ٹیکنالوجی اور جنگی طیارے کے خلاف حربی تجربہ حاصل کرنے کا نادر موقع فراہم کرتا ہے۔ تاہم ایسی مشق کے نتائج کو حقیقی جنگ میں کسی ایک طیارے کی برتری کا حتمی ثبوت قرار نہیں دیا جاسکتا، کیونکہ حقیقی فضائی جنگ میں پائلٹ کی مہارت، ریڈار، میزائل، الیکٹرانک وارفیئر، ڈیٹا لنکس اور دیگر معاون نظام بھی فیصلہ کن کردار ادا کرتے ہیں۔

چین، مصر دفاعی تعاون میں اہم پیش رفت

"Eagles of Civilization 2026” مشق کو چین اور مصر کے بڑھتے ہوئے دفاعی تعاون کے تناظر میں بھی اہم قرار دیا جارہا ہے۔ مصر ایک ہی وقت میں مختلف ممالک سے جدید دفاعی ٹیکنالوجی حاصل کرتا ہے، جس کے باعث اس کی فضائیہ میں چینی، فرانسیسی اور دیگر ممالک کے ساختہ جنگی طیارے موجود ہیں۔

J-16 اور Rafale کی ایک ہی فضائی مشق میں شرکت نے اس تربیتی سرگرمی کو مزید غیر معمولی بنا دیا ہے۔ مشق کے دوران دونوں ممالک کے پائلٹس کو مختلف طیاروں کے خلاف جنگی حکمت عملی، فضائی حرکات اور آپریشنل طریقہ کار کو سمجھنے کا موقع مل رہا ہے۔

J-16 اور Rafale کا یہ تاریخی فضائی آمنا سامنا عالمی دفاعی حلقوں میں خاص توجہ حاصل کر رہا ہے، جبکہ مشق سے حاصل ہونے والا تجربہ مستقبل میں چین اور مصر دونوں کی فضائی جنگی تربیت کیلئے اہم ثابت ہوسکتا ہے۔

مزید خبریں

Back to top button