ایران کا امریکی پابندیوں کو ناکام پالیسی قرار دیتے ہوئے بھرپور مقابلہ کرنے کا اعلان

تہران(جانوڈاٹ پی کے)ایران نے امریکا کی جانب سے عائد پابندیوں کو ناکام پالیسی قرار دیتے ہوئے بھرپور مقابلہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایران نے امریکا کی جانب سے عائد اقتصادی پابندیوں کو ایک بار پھر ناکام پالیسی قرار دیتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ ایران امریکی دباؤ کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنی تمام دوطرفہ صلاحیتیں استعمال کرے گا۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ امریکا مسلسل ایسی پالیسی پر عمل پیرا ہے جو ماضی میں بھی مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں ناکام رہی لیکن امریکا دوبارہ انھی طریقوں کو ایران کے خلاف استعمال کررہا ہے۔

اسماعیل بقائی نے مزید کہا کہ امریکی پابندیوں کا سب سے براہ راست اثر عام ایرانی شہریوں پر پڑتا ہے، امریکا کی یہ پالیسی عوام دشمنی پر مبنی ہے جو عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ ایران امریکی اقتصادی پابندیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنے دستیاب تمام دوطرفہ ذرائع اور صلاحیتیں بروئے کار لائے گا اور اقتصادی دباؤ کے باوجود اپنے تجارتی تعلقات برقرار رکھنے کی کوشش جاری رکھے گا۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے دیگر ممالک کی جانب سے دھمکیوں اور پابندیوں کے ذریعے ایران کے تجارتی تعلقات محدود کرنے کی کوششوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔

اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ تجارت کو محدود کرنے کے لیے پابندیوں اور دھمکیوں کا استعمال آزاد تجارت کی بنیادی اقدار اور قومی خودمختاری کے احترام کے اصول کی خلاف ورزی ہے۔

انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ ایسے اقدامات کا نوٹس لے جن کے ذریعے ایک ملک دوسرے ممالک کے ساتھ اپنے تجارتی اور اقتصادی تعلقات پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کرتا ہے۔

اسماعیل بقائی نے امریکی اقدامات کو بین الاقوامی قوانین اور اصولوں کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکا کی مبینہ زیادتیوں نے اس کے قریبی اتحادیوں میں بھی احتجاج اور تحفظات پیدا کیے ہیں۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ امریکا کی جانب سے بین الاقوامی تعلقات میں قانون کی مبینہ خلاف ورزیوں کا سلسلہ عالمی برادری کے لیے ایک ویک اپ کال ہونا چاہیے۔

ایران کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب امریکا نے ایران کے خلاف مزید اقتصادی پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کی نئی پابندیوں کا دائرہ ایران کے ساتھ تجارت کرنے والے ممالک تک بڑھائے جانے کی دھمکی دی تھی۔

مزید خبریں

Back to top button