لندن کی چمک ماند پڑنے لگی؟ خوشحال دارالحکومت سے خاندانوں کی بڑی تعداد میں نقل مکانی نے ماہرین کو چونکا دیا

لندن (ویب ڈیسک) برطانیہ کے دارالحکومت لندن کی عالمی معاشی اہمیت اور کشش برقرار ہونے کے باوجود شہر سے بڑی تعداد میں افراد کی نقل مکانی نے ماہرین کے لیے نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق لندن گزشتہ سال ان نمایاں مواقع میں شامل رہا جب شہر کی مجموعی آبادی میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس نقل مکانی میں بالخصوص 30 اور 40 سال کی عمر کے افراد اور بچوں والے خاندان نمایاں رہے۔
تجزیے کے مطابق لندن دنیا بھر سے باصلاحیت، ہنرمند اور تخلیقی افراد کو اپنی معاشی سرگرمیوں، روزگار کے مواقع اور متحرک شہری زندگی کے باعث اپنی جانب متوجہ کرتا ہے، تاہم شہر سے اپنے ہی پیداواری اور پیشہ ور افراد کی روانگی نے پالیسی سازوں اور ماہرین کے سامنے اہم سوالات کھڑے کردیے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ سال لندن کی آبادی میں کمی گزشتہ چار دہائیوں کے دوران صرف تیسری مرتبہ دیکھنے میں آئی۔ ماہرین کے لیے خاص طور پر یہ امر قابل توجہ ہے کہ شہر چھوڑنے والوں میں ایسے افراد بھی شامل ہیں جو اپنی پیشہ ورانہ زندگی کے اہم مرحلے میں ہیں اور اکثر اپنے بچوں کے ساتھ لندن سے منتقل ہو رہے ہیں۔
تجزیے میں سوال اٹھایا گیا ہے کہ دنیا بھر سے ٹیلنٹ اور تخلیقی صلاحیتوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے والا لندن اپنے ہی سب سے زیادہ پیداواری رہائشیوں کو برقرار رکھنے میں کیوں مشکلات کا شکار ہے۔
مہر شرما کے مطابق لندن کی عالمی کشش اب بھی برقرار ہے، تاہم لوگوں کی مسلسل نقل مکانی اس بات پر غور کرنے کی ضرورت پیدا کرتی ہے کہ رہائش کے اخراجات، خاندانی زندگی، شہری سہولیات اور دیگر معاشرتی مسائل کس حد تک لوگوں کے شہر چھوڑنے کے فیصلوں پر اثرانداز ہو رہے ہیں۔
ماہرین کے نزدیک لندن سے خاندانوں اور کام کرنے کی عمر کے افراد کی مسلسل روانگی مستقبل میں شہر کی معیشت، افرادی قوت اور شہری منصوبہ بندی کے لیے ایک اہم چیلنج بن سکتی ہے۔



