"حکومت ختم کریں،خان کی گارنٹی ہم دیتے ہیں”،نئے صوبے نہ بنائے تو ‘انگلی ٹیڑھی’ کرنا پڑے گی،سابق پی ٹی آئی رہنما’’ایکٹو‘‘ہوگئے

اسلام آباد(جانوڈاٹ پی کے)ملک میں نئے صوبوں کے قیام کا معاملہ ایک بار پھر شدت اختیار کر گیا ہے، جہاں مختلف سیاسی رہنماؤں نے نہ صرف نئے انتظامی یونٹس بنانے کا مطالبہ دہرایا بلکہ موجودہ حکومت کو ہٹا کر نیشنل یونٹی حکومت کے قیام کی تجویز بھی سامنے آ گئی۔

ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولوی محمود، عمران اسماعیل، محمد علی درانی اور فواد چوہدری نے نئے صوبوں کے قیام کو ملکی ترقی، انتظامی بہتری اور سیاسی استحکام کے لیے ناگزیر قرار دیا۔

"خان کے بغیر نئے صوبے نہیں بن سکتے، عمران اسماعیل کا بڑا دعویٰ”

مولوی محمود نے کہا کہ سندھ کو تقسیم کرنے کی نہیں بلکہ انتظامی بنیادوں پر نئے صوبے بنانے کی بات ہو رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک سیاسی اور معاشی استحکام نہیں آئے گا، سرمایہ کاری بھی ممکن نہیں ہوگی۔

سابق گورنر سندھ عمران اسماعیل نے دعویٰ کیا کہ آج بھی عمران خان ملک کی مقبول ترین شخصیت ہیں اور ان کے بغیر نئے صوبوں کا خواب پورا نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ چند روز میں اسلام آباد ہائی کورٹ میں عمران خان اور بشریٰ بی بی سے ملاقات کی اجازت کے لیے درخواست دائر کی جائے گی تاکہ اس معاملے پر ان سے مشاورت کی جا سکے۔

"حکومت ختم کریں، خان کی گارنٹی ہم دیتے ہیں، محمد علی درانی کا دھماکہ خیز بیان”

سابق وفاقی وزیر محمد علی درانی نے کہا کہ بہاولپور، جنوبی پنجاب اور ہزارہ صوبے کا راستہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے روکا ہوا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ موجودہ حکومت کو ہٹا کر نیشنل یونٹی حکومت قائم کی جائے تاکہ نئے صوبوں کے قیام کی راہ ہموار ہو۔

"طاقتور حلقے چاہیں تو سسٹم ایک دن میں بدل سکتا ہے، عمران اسماعیل”

فواد چوہدری نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت نے نئے صوبوں کے مطالبے پر توجہ نہ دی تو "انگلی ٹیڑھی کرنا پڑے گی”۔ ان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف ہمیشہ چھوٹے انتظامی یونٹس کی حامی رہی ہے اور موجودہ حکومت عوامی مینڈیٹ سے وجود میں نہیں آئی۔

 

پریس کانفرنس میں رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ آئین میں موجود طریقہ کار کے مطابق نئے صوبوں کی قراردادوں پر فوری عمل درآمد کیا جائے اور ملک میں انتظامی اصلاحات کا عمل مزید تاخیر کے بغیر شروع کیا جائے۔

مزید خبریں

Back to top button