مون سون الرٹ: این ڈی ایم اے میں اعلیٰ سطحی اجلاس، غیر معمولی بارشوں اور ممکنہ سیلاب سے نمٹنے کی تیاریوں کا جائزہ

اسلام آباد (جانو ڈاٹ پی کے) وفاقی وزرا اور اعلیٰ حکام نے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کا دورہ کیا، جہاں مون سون بارشوں، ممکنہ سیلابی صورتحال اور موسمیاتی تبدیلی سے پیدا ہونے والے خطرات سے نمٹنے کے لیے کیے گئے اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

این ڈی ایم اے حکام نے بتایا کہ مون سون سیزن کے لیے مؤثر پیشگی انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں، جبکہ رواں برس غیر معمولی بارشوں کا امکان ہے۔ بریفنگ میں خدشہ ظاہر کیا گیا کہ شمالی اور مشرقی پاکستان کے علاقے مون سون بارشوں سے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں۔

وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان کو 2022 اور 2025 میں تباہ کن سیلابوں کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث فلیش فلڈ، لینڈ سلائیڈنگ اور اربن فلڈنگ کے خطرات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ حکومت نے مون سون سے قبل ہی حفاظتی اقدامات شروع کر دیے تھے، جبکہ وزیراعظم کی ہدایت پر موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے ایمرجنسی رسپانس کمیٹی قائم کی گئی ہے، جو روزانہ کی بنیاد پر صورتحال کا جائزہ لے رہی ہے۔

احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے پانچ ممالک میں شامل ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ برس بروقت ریسکیو اور ریلیف اقدامات کی بدولت نقصانات میں کمی آئی، جبکہ سیلاب اور بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے اثرات سے بچاؤ کے لیے مزید اقدامات جاری ہیں۔

انہوں نے کہا کہ زرعی شعبے کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جا رہا ہے اور آبی ذخائر میں اضافے کے لیے تیزی سے کام کیا جا رہا ہے، جبکہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے انتظامی صلاحیت کو مزید مؤثر بنایا جا رہا ہے۔

وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے کہا کہ قدرتی آفات سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لیے ضلعی اداروں کو مزید بااختیار بنانا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے منفی اثرات سب سے زیادہ زرعی شعبے پر مرتب ہو رہے ہیں، جس کے پیش نظر جدید زرعی طریقوں پر تحقیق جاری ہے۔

وفاقی وزیر مصدق ملک نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی ایک عالمی مسئلہ ہے اور پاکستان اس حوالے سے عالمی سطح پر اپنا مؤقف بھرپور انداز میں پیش کر رہا ہے۔ ان کے مطابق پہاڑی، میدانی اور شہری علاقوں کے لیے الگ الگ حکمت عملی تیار کی گئی ہے، جبکہ گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے کے باعث پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت میں اضافہ ناگزیر ہو چکا ہے۔

چیئرمین واپڈا معین وٹو نے کہا کہ ملک میں پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت بڑھانا وقت کی اہم ضرورت ہے اور دیامر بھاشا ڈیم جیسے منصوبے اس مقصد کے حصول میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔ انہوں نے آبی منصوبوں کی بروقت تکمیل پر زور دیا۔

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ بڑھتی ہوئی آبادی اور موسمیاتی تبدیلی پاکستان کے لیے بڑے چیلنجز ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ عالمی بینک کے تعاون سے موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے مختلف منصوبوں پر کام جاری ہے، جبکہ عوامی آگاہی میں اضافے کی بھی ضرورت ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا کہ این ڈی ایم اے اور متعلقہ اداروں نے مؤثر ارلی وارننگ سسٹم تشکیل دیا ہے، جس کے ذریعے عوام کو بروقت معلومات فراہم کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے باہمی تعاون سے اس نظام کو مزید بہتر بنایا گیا ہے، جس کے باعث قدرتی آفات سے ہونے والے نقصانات میں کمی ممکن ہوئی، جبکہ این ڈی ایم اے کے ارلی وارننگ سسٹم کو عالمی سطح پر بھی سراہا جا رہا ہے۔

مزید خبریں

Back to top button