شوہر کے ظلم پر خلع لینے والی بیوی حق مہر سے محروم نہیں ہوگی، لاہور ہائیکورٹ

لاہور (جانو ڈاٹ پی کے) لاہور ہائیکورٹ نے خلع، فسخِ نکاح اور حق مہر سے متعلق ایک اہم اور نظیر ساز فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ اگر بیوی یہ ثابت کر دے کہ شادی کے خاتمے کی وجہ شوہر کا ظلم، تشدد یا دیگر ازدواجی زیادتیاں ہیں تو وہ اپنے حق مہر سے محروم نہیں ہوگی۔

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے شوہر ارسلان کی درخواست ابتدائی سماعت پر ہی خارج کر دی۔ یہ درخواست ٹوبہ ٹیک سنگھ کی فیملی عدالت اور ڈسٹرکٹ جج کے فیصلوں کے خلاف دائر کی گئی تھی۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ خلع اور فسخِ نکاح دو الگ قانونی تصورات ہیں، اس لیے ہر مقدمے میں حق مہر کا فیصلہ اس کے مخصوص حقائق اور شواہد کی بنیاد پر کیا جائے گا۔ عدالت نے واضح کیا کہ ہر خلع کے مقدمے میں حق مہر واپس کرنا لازمی نہیں۔

درخواست گزار شوہر نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ فیملی کورٹس ایکٹ 1964 کی بعض دفعات کو وفاقی شرعی عدالت اسلامی احکامات سے متصادم قرار دے چکی ہے اور یہ معاملہ سپریم کورٹ میں بھی زیرِ سماعت ہے، اس لیے بیوی کو حق مہر کا کوئی حصہ نہیں دیا جا سکتا۔ تاہم عدالت نے یہ مؤقف مسترد کر دیا۔

عدالتی ریکارڈ کے مطابق فریقین کا نکاح 18 مارچ 2022 کو ہوا تھا، جس میں ایک لاکھ روپے حق مہر مقرر کیا گیا، لیکن ادا نہیں کیا گیا۔

بیوی نشا شاہد نے فیملی عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ حق مہر کا مطالبہ کرنے پر شوہر نے تشدد شروع کر دیا، وہ بے روزگار تھا، چوری اور منشیات کا عادی تھا، والدین سے رقم لانے کا دباؤ ڈالتا، گالم گلوچ کرتا، نان و نفقہ ادا نہیں کرتا تھا اور آخرکار اسے گھر سے نکال دیا۔

فیملی عدالت نے بیوی کا دعویٰ جزوی طور پر منظور کرتے ہوئے مؤخر حق مہر کا 50 فیصد ادا کرنے کا حکم دیا تھا، جبکہ بعد ازاں شوہر کی اپیل بھی ڈسٹرکٹ جج نے مسترد کر دی۔

لاہور ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ اگر بیوی صرف ناپسندیدگی کی بنیاد پر خلع حاصل کرے تو حق مہر کی واپسی کا سوال پیدا ہو سکتا ہے، لیکن اگر شادی شوہر کے ظلم، جسمانی یا ذہنی تشدد، بدسلوکی، نان و نفقہ نہ دینے یا دیگر قانونی وجوہات کی بنیاد پر ختم ہو تو حق مہر برقرار رہے گا اور شوہر اس کی واپسی کا مطالبہ نہیں کر سکتا۔

عدالت نے مزید واضح کیا کہ ظلم صرف جسمانی تشدد تک محدود نہیں بلکہ ذہنی، نفسیاتی، زبانی اور معاشی تشدد بھی اس میں شامل ہیں۔ ہر واقعے کے لیے میڈیکل رپورٹ یا ایف آئی آر لازمی نہیں، بلکہ بیوی کا قابلِ اعتماد بیان اور دیگر حالات بھی بطور ثبوت قابلِ قبول ہو سکتے ہیں۔

فیصلے میں کہا گیا کہ فیملی کورٹ پہلے یہ تعین کرے گی کہ شادی ٹوٹنے کی اصل وجہ کیا تھی، اس کے بعد حق مہر سے متعلق فیصلہ کیا جائے گا۔ محض یہ لکھ دینے سے کہ نکاح خلع کے ذریعے ختم ہوا، حق مہر خودبخود ختم نہیں ہو جاتا۔

لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب حکومت اور لا اینڈ جسٹس کمیشن آف پاکستان کو سفارش بھی کی ہے کہ قانون میں مناسب ترمیم کی جائے تاکہ فیملی عدالتیں شادی کے خاتمے کی وجوہات کا واضح تعین کرنے کے بعد ہی حق مہر سے متعلق فیصلہ کریں، اور جہاں شوہر کا قصور ثابت ہو وہاں بیوی کے حق مہر کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔

مزید خبریں

Back to top button