شنگھائی میں سندھ کیلئے بڑی سرمایہ کاری کی پیشرفت،34مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط

ایک ویڈیو بیان میں شرجیل انعام میمن نے بتایا کہ ان مفاہمتی یادداشتوں میں 10 حکومتی سطح پر (جی ٹو جی) جبکہ 24 کاروباری اداروں کے درمیان (بی ٹو بی) معاہدے شامل ہیں۔ ان کے مطابق کانفرنس میں سندھ میں سرمایہ کاری کے مواقع اجاگر کیے گئے اور توانائی، کوئلے، جامعات سمیت مختلف شعبوں میں پاک چین تعاون کو فروغ دینے پر پیش رفت ہوئی۔
شرجیل انعام میمن کا کہنا تھا کہ پاکستان اور چین کی دوستی دونوں ممالک اور پورے خطے کے لیے اہمیت رکھتی ہے، جبکہ اقتصادی تعاون سے ملکی معیشت کو بہتر بنانے اور ترقی کے نئے مواقع پیدا کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
سینئر وزیر نے کہا کہ پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کا حصہ دھابیجی اسپیشل اکنامک زون چینی سرمایہ کاروں کے لیے اہم مواقع فراہم کرتا ہے۔ ان کے مطابق چینی سرمایہ کاروں نے اس زون میں سرمایہ کاری اور صنعتی یونٹس قائم کرنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ صنعتی سرگرمیوں میں اضافے سے سندھ میں روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے، بے روزگاری میں کمی آئے گی، مقامی معیشت مضبوط ہوگی اور درآمدات پر انحصار کم کرنے میں مدد ملے گی۔
شرجیل انعام میمن کے مطابق حکومتِ سندھ سرمایہ کاری کے فروغ اور کاروباری شراکت داری کے ذریعے صوبے میں صنعتی ترقی کے لیے کوشاں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کانفرنس کے نتیجے میں ہونے والی پیش رفت کے ثمرات جلد عوام تک پہنچنے اور صوبے میں معاشی سرگرمیوں میں اضافے کی توقع ہے۔



