ممبئی ٹرین دھماکے کیس میں بڑا فیصلہ، سزا یافتہ 12 مسلمان باعزت بری

عدالت نے قرار دیا کہ پیش کیے گئے شواہد میں تسلسل نہیں تھا

ممبئی (مانیٹرنگ ڈیسک): بمبئی ہائی کورٹ نے 2006 کے ممبئی ٹرین دھماکوں کے کیس میں ٹرائل کورٹ سے سزائے موت اور عمر قید پانے والے تمام 12 ملزمان کو ناکافی شواہد کی بنیاد پر بری کر دیا۔

تفصیلات کے مطابق دو رکنی بینچ جسٹس انیل ایس کلور اور جسٹس شیام چندک نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ استغاثہ ملزمان کے خلاف الزامات ثابت کرنے میں بری طرح ناکام رہا، عینی شاہدین، برآمدگی اور اعترافی بیانات ناقابلِ اعتماد پائے گئے۔

عدالت نے قرار دیا کہ پیش کیے گئے شواہد میں تسلسل نہیں تھا اور واقعات کی کڑیاں مکمل طور پر جُڑتی نہیں تھیں، اس لیے ان افراد کو جرم سے جوڑنا ممکن نہ رہا۔

یاد رہے کہ 11 جولائی 2006 کو ممبئی کی 7 لوکل ٹرینوں میں وقفے وقفے سے دھماکے ہوئے تھے جن کے نتیجے میں 187 افراد جاں بحق اور 824 زخمی ہو گئے تھے۔ اس واقعے کے بعد مہاراشٹر حکومت نے خصوصی عدالت کے تحت کارروائی کرتے ہوئے 12 افراد پر مقدمہ چلایا تھا۔

خصوصی عدالت نے 2015 میں فیصلہ سناتے ہوئے 5 افراد کو سزائے موت اور 7 کو عمر قید کی سزا سنائی تھی، تاہم بمبئی ہائی کورٹ نے تمام سزاؤں کو کالعدم قرار دے دیا۔

ہائی کورٹ کے فیصلے کے مطابق اگر ملزمان کسی اور کیس میں مطلوب نہیں تو انہیں فوری طور پر رہا کیا جائے۔

واضح رہے کہ اس کیس کے ایک ملزم کمال احمد انصاری دورانِ قید کورونا وائرس کے باعث وفات پا چکے ہیں، عدالت نے فیصلہ ان پر بھی لاگو قرار دیا۔

ملزمان کی اپیلیں 2015 سے عدالت میں زیرِ التوا تھیں، جن پر رواں برس سماعت مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا گیا تھا۔ فیصلے کے بعد جیلوں میں قید ملزمان نے عدالت میں ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی اور بری ہونے پر جذباتی مناظر دیکھنے میں آئے۔

مزید خبریں

Back to top button