غیرت کے نام پر میاں بیوی کا قتل، چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ کا نوٹس، گرفتاریاں

ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ اور انسپکٹر جنرل پولیس کو بائیس جولائی کو طلب

کوئٹہ (ویب ڈیسک): بلوچستان میں غیرت کے نام پر شوہر اور بیوی کے لرزہ خیز قتل پر چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ نے سخت نوٹس لیتے ہوئے ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ اور انسپکٹر جنرل پولیس کو بائیس جولائی کو طلب کرلیا ہے۔

یہ واقعہ اُس وقت منظرِ عام پر آیا جب ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی جس میں دیکھا جا سکتا تھا کہ ایک مرد و خاتون کو فائرنگ کرکے بے دردی سے قتل کیا جا رہا ہے۔ پولیس نے واقعے کا مقدمہ انسداد دہشت گردی، قتل اور دیگر دفعات کے تحت درج کر لیا ہے۔

پولیس کے مطابق واقعے میں شاہ وزیر، جلال، ٹکری منیر، بختیار، ملک امیر اور عجب خان سمیت دیگر افراد ملوث تھے۔ جرگہ نما فیصلے میں ساتکزئی قبیلے کے سردار شیر باز خان نے مقتولین کو کاروکاری کا مرتکب قرار دیا اور قتل کی اجازت دی۔ بعد ازاں مرد و خاتون کو گاڑی میں بٹھا کر سنجیدی ڈیگاری مارگٹ کے علاقے میں لے جایا گیا، جہاں اُنہیں گولیاں مار کر قتل کر دیا گیا۔

کوئٹہ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے مرکزی کردار بشیر احمد سمیت بیس سے زائد افراد کو گرفتار کرلیا ہے جن میں قبیلے کے سردار شیر باز خان، اُن کے چار بھائی اور دو محافظ شامل ہیں۔ تمام گرفتار افراد کو آج مجاز عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

واقعے کی تحقیقات سنجیدہ جرائم کی تفتیش کرنے والے خصوصی وِنگ کے سپرد کر دی گئی ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی متوقع ہیں۔

چیف جسٹس کے نوٹس کے بعد معاملہ اعلیٰ سطح پر پہنچ چکا ہے، جب کہ انسانی حقوق کی تنظیموں نے واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے شفاف تحقیقات اور انصاف کا مطالبہ کیا ہے۔

مزید خبریں

Back to top button