صرف11فیصد کاروباری ادارے پائیداری رپورٹس جاری کرتے ہیں،شیری رحمان کا انکشاف

 اسلام آباد (جانو ڈاٹ پی کے) نائب صدر پیپلز پارٹی سینیٹر شیری رحمان نے کہا ہے کہ ماحولیاتی، سماجی اور انتظامی امور (ESG) پر گفتگو کو صرف ماحولیات تک محدود نہیں رکھا جاسکتا بلکہ اس کے ساتھ سیاست اور قانون کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا۔

پاکستان ESG پالیسی رپورٹ کی لانچنگ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شیری رحمان نے کہا کہ پاکستان میں ESG سے متعلق آگاہی موجود ہے تاہم اس پر عمل درآمد میں بڑا خلا پایا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی تقریباً 537 کمپنیوں میں سے بہت کم ادارے قابلِ اعتماد ماحولیاتی معلومات فراہم کررہے ہیں۔ صرف 18 فیصد کمپنیوں کے بورڈز میں ESG امور سے متعلق تربیت یافتہ ڈائریکٹرز موجود ہیں جبکہ صرف 11 فیصد کاروباری ادارے پائیداری رپورٹس جاری کررہے ہیں۔

شیری رحمان کا کہنا تھا کہ پائیداری رپورٹس میں محض اعداد و شمار شامل نہیں ہونے چاہئیں بلکہ زمینی حقائق بھی سامنے آنے چاہئیں۔ ان رپورٹس کی آزادانہ تصدیق اور نگرانی کے لیے مؤثر نظام ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ کمپنیوں کو پائیداری کے اقدامات کے لیے مراعات دی جانی چاہئیں جبکہ خلاف ورزیوں پر متوازن جرمانوں کا نظام بھی تشکیل دیا جائے۔

شیری رحمان کے مطابق تمام لسٹڈ کمپنیوں کے لیے ESG رپورٹنگ لازمی بنانے کے لیے مرحلہ وار نظام متعارف کرایا گیا ہے۔ یکم جولائی 2029 سے 25 ارب روپے سے زائد کاروبار، ایک ہزار سے زائد ملازمین یا 12.5 ارب روپے سے زائد اثاثوں والی کمپنیوں پر رپورٹنگ لاگو ہوگی۔

انہوں نے بتایا کہ یکم جولائی 2030 سے 12.5 ارب روپے سے زائد کاروبار، 500 سے زائد ملازمین یا 6.25 ارب روپے سے زائد اثاثوں والی مزید بڑی کمپنیوں کے لیے ESG رپورٹنگ لازمی ہوگی، جبکہ یکم جولائی 2031 سے تمام باقی لسٹڈ کمپنیوں اور عوامی مفاد کی غیر لسٹڈ کمپنیوں کے لیے بھی رپورٹنگ لازمی کردی جائے گی۔

نائب صدر پیپلز پارٹی نے کہا کہ 2026 سے 2027 کے دوران جرمانوں کے ساتھ کمپنیوں کے لیے مراعات شامل کرنے والے قانون پر کام کیا جائے گا۔ نجی شعبہ پہلے ہی ٹیکسوں کے بڑے بوجھ کا سامنا کررہا ہے، اس لیے نئی ماحولیاتی پالیسیوں سے کمپنیوں پر غیر ضروری مالی بوجھ نہیں پڑنا چاہیے۔

مزید خبریں

Back to top button