خوفناک زلزلے کا خدشہ، ماہر ارضیات نے لاوے کا بڑا ذخیرہ دریافت کرلیا
یہ لاوا چار کروڑ سال قبل جمع ہونا شروع ہوا

سعودی عرب کی شاہ فہد یونیورسٹی سے وابستہ معروف ماہر ارضیات پروفیسر سائمن پیلیا نے جدید آلات کی مدد سے عمان کے سلمی سطح مرتفع کے نیچے لاوے کا ایک بڑا ذخیرہ دریافت کیا ہے، جو مستقبل میں خطے میں بڑی ارضیاتی تبدیلیوں کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔
پروفیسر سائمن پیلیا کے مطابق یہ لاوا چار کروڑ سال قبل اُس وقت جمع ہونا شروع ہوا، جب انڈین پلیٹ سمندر کے نیچے بہتی ہوئی عرب پلیٹ کے قریب پہنچی۔ اس ارضیاتی تصادم نے نہ صرف زمین کی اندرونی تہوں میں لاوا کے دباؤ کو جنم دیا بلکہ عمان کے سلمی پہاڑی سلسلے کی تشکیل کا باعث بھی بنا۔
انہوں نے بتایا کہ لاوے کا یہ ذخیرہ زمین کی سطح سے بہت گہرائی میں ہے، اسی لیے یہ تاحال سطح پر نمودار نہیں ہوا، تاہم اس کے شدید دباؤ نے انڈین پلیٹ کے رخ کو تبدیل کر کے یورشین پلیٹ کی جانب موڑ دیا، جہاں وہ آج ٹکرا چکی ہے۔
پروفیسر سائمن نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ مکران سب ڈکشن زون میں یورشین اور عرب پلیٹوں کے باہمی تصادم سے زمین کی سطح کے نیچے غیر معمولی دباؤ پیدا ہو رہا ہے، جو کسی بھی وقت 9 میگنیٹیوڈ شدت کے زلزلے کا سبب بن سکتا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر اس خطے میں دباؤ کا اخراج نہ ہوا تو تباہ کن زلزلہ آ سکتا ہے، جو پاکستان کے ساحلی علاقوں سمیت پورے مکران بیلٹ کو متاثر کر سکتا ہے۔
ماہر ارضیات کا کہنا ہے کہ اگر ماضی میں انڈین پلیٹ عرب پلیٹ سے ہی ٹکرا جاتی تو موجودہ پاکستان، بھارت، نیپال، عمان، سعودی عرب اور یمن کا جغرافیہ یکسر مختلف ہوتا اور ممکن ہے کہ یہ تمام خطے ایک ہی زمینی ساخت کا حصہ ہوتے۔
پروفیسر سائمن کے مطابق مکران زون میں عرب پلیٹ، یورشین پلیٹ کے نیچے مسلسل سرک رہی ہے، جس کے باعث خطے میں انوکھی ارضیاتی تبدیلیاں جنم لے رہی ہیں۔ ان کے مطابق اس وقت مکران بیلٹ دنیا کے خطرناک زلزلیاتی زونز میں شامل ہو چکا ہے، جہاں کسی بھی وقت شدت کا زلزلہ آسکتا ہے۔



