حمیرا اصغر کی لاش ملنے سے متعلق کیس میں اہم پیشرفت
تفصیلی رپورٹ طلب

کراچی (انٹرٹینمنٹ ڈیسک): کراچی کی ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت جنوبی نے ماڈل و اداکارہ حمیرہ اصغر کی لاش ملنے کے واقعے پر مقدمہ درج کرنے کی درخواست پر پولیس سے 16 اگست تک تفصیلی رپورٹ طلب کرلی۔
تفصیلات کے مطابق عدالت میں سماعت کے دوران ایڈووکیٹ شاہ زیب سہیل کی جانب سے مقدمے کے اندراج کی درخواست پیش کی گئی۔ پولیس نے اپنی ابتدائی رپورٹ عدالت میں جمع کرادی، جس میں بتایا گیا کہ اداکارہ کے اہل خانہ سے رابطہ کیا جاچکا ہے جبکہ مرحومہ کا پوسٹ مارٹم مکمل ہوچکا ہے اور اب فرانزک رپورٹ کا انتظار ہے، جس کے بعد مزید کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے پولیس کو ہدایت دی کہ مقتولہ کے اہل خانہ سے دریافت کیا جائے کہ آیا وہ مقدمہ درج کروانا چاہتے ہیں یا نہیں۔
درخواست گزار نے مؤقف اپنایا کہ حمیرہ اصغر کی موت 7 اکتوبر کو واقع ہوئی، لیکن ان کا موبائل فون فروری 2025 تک مسلسل استعمال میں رہا۔ اس دوران میک اپ آرٹسٹ کا فون بھی استعمال کیا گیا اور واٹس ایپ ڈی پی بھی ڈیلیٹ کی گئی، جو معاملے کو مشکوک بناتا ہے۔ درخواست میں استدعا کی گئی کہ میک اپ آرٹسٹ سمیت مقتولہ کے بھائی اور دیگر افراد کو شامل تفتیش کیا جائے۔
درخواست میں مزید کہا گیا کہ پولیس رپورٹ کے مطابق کمرے اور واش روم سے خون کے نمونے حاصل کیے گئے ہیں، جو قتل کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ لہٰذا عدالت سے استدعا ہے کہ مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا جائے۔
تفتیشی افسر نے عدالت کو آگاہ کیا کہ اگر تفتیش کے دوران شواہد ملے تو پولیس خود مقدمہ درج کرے گی۔
واضح رہے کہ اس مقدمے میں ایس ایس پی ساؤتھ اور ایس ایچ او تھانہ گزری کو بھی فریق بنایا گیا ہے۔ عدالت نے آئندہ سماعت پر تفصیلی رپورٹ طلب کرتے ہوئے سماعت 16 اگست تک ملتوی کردی۔



