سکھر: زہرہ حنیف کے مبینہ قتل کے خلاف پریس کلب کے سامنے احتجاج، فوری انصاف کا مطالبہ

سکھر (بیورورپورٹ) سکھر کے علاقے اولیاء مسجد، 5 نمبر کالونی اور بندر روڈ نزد باغِ حیات کی رہائشی زہرہ حنیف ملاح کے مبینہ قتل کے خلاف ورثاء اور برادری کے افراد نے سکھر پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا۔
مظاہرین کا الزام ہے کہ مرحومہ کو اس کے شوہر محمد حنیف ملاح اور دیور مقبول ملاح نے طویل عرصے تک بدترین تشدد کا نشانہ بنایا اور بالآخر زہریلا مشروب (فنائل/تیزاب نما محلول) پلا کر قتل کیا۔ مظاہرے میں مرحومہ کے والد محمد رمضان ملاح، بیٹے شہزاد حنیف اور ملاح برادری کے متعدد افراد شریک تھے۔
مرحومہ کے والد نے بتایا کہ زہرہ حنیف کی شادی کو تقریباً 32 سال ہو چکے تھے اور وہ شوہر کے گھر مقیم تھی۔ اس دوران اسے مسلسل جسمانی اور ذہنی تشدد، والدین سے ملنے کی اجازت نہ دینا اور دیگر مظالم کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ بیٹی نے ہسپتال میں ہوش کی حالت میں خود بتایا کہ اسے مارا پیٹا گیا اور زہریلا مشروب پلایا گیا۔ پہلے اسے سول اسپتال سکھر منتقل کیا گیا، بعد ازاں تشویشناک حالت کے باعث کراچی لے جایا گیا جہاں ایک ماہ کے علاج کے بعد وہ دم توڑ گئی۔
مرحومہ کے بیٹے شہزاد حنیف نے الزام لگایا کہ والدہ پر طویل عرصے سے ظلم ڈھایا جا رہا تھا اور ان کے جسم پر تشدد کے واضح نشانات موجود تھے۔ دیور محمد رفیق ملاح نے کہا کہ وہ کئی بار بھائیوں کو زہرہ کے ساتھ ناروا سلوک سے منع کر چکے ہیں، تاہم بات نہ بنی۔
مظاہرین نے وزیراعظم پاکستان، وزیراعلیٰ سندھ، آئی جی سندھ، ڈی آئی جی سکھر اور ایس ایس پی سکھر سے مطالبہ کیا کہ ملزمان محمد حنیف ملاح اور مقبول ملاح کو فوری گرفتار کیا جائے، قتل کا مقدمہ درج کر کے شفاف اور غیر جانبدار تفتیش یقینی بنائی جائے اور متاثرہ خاندان کو تحفظ فراہم کیا جائے۔ مظاہرین نے خبردار کیا کہ اگر فوری کارروائی نہ کی گئی تو احتجاج کا دائرہ وسیع کیا جائے گا۔



