ایران امریکا جنگ بندی کے باوجود عالمی معیشت غیر مستحکم رہے گی، صدر ورلڈ بینک

واشنگٹن(ویب ڈیسک)عالمی بنک کے صدر اجے بنگا نے خبردار کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی جنگ عالمی معیشت پر انتہائی گہرے اثرات مرتب کرے گی۔

برطانوی خبر رساں ایجنسی کو دیئے گئے انٹرویو میں اجے بنگا نے واضح کیا کہ اگر یہ جنگ بندی ناکام ہوتی ہے اور تنازع مزید بڑھتا ہے تو معاشی نقصانات کا اندازہ لگانا بھی مشکل ہوگا،جنگ کے باعث عالمی ترقی کی شرح میں نمایاں کمی آسکتی ہے، جبکہ مہنگائی میں غیر معمولی اضافہ ہونے کا خدشہ ہے جو عام آدمی کی زندگی کو مزید مشکل بنا دے گا۔

اجے بنگا کا کہنا تھا کہ اس جنگ نے پہلے ہی تیل کی قیمتوں میں پچاس فیصد اضافہ کر دیا ہے، جبکہ گیس، کھاد اور دیگر ضروری اشیاء کی ترسیل کے ساتھ ساتھ سیاحت اور فضائی سفر کو بھی بری طرح متاثر کیا ہے۔

ورلڈ بینک کے صدر نے پاکستان میں ہونے والے مذاکرات کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ بات چیت دیرپا امن اور آبنائے ہرمز کے دوبارہ کھلنے کا سبب بنے گی؟ اگر یہ مذاکرات کامیاب نہیں ہوتے اور دوبارہ لڑائی شروع ہوتی ہے تو توانائی کے ڈھانچے پر اس کے اثرات بہت طویل اور تباہ کن ہوں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ورلڈ بینک ان ممالک کی مدد کے لیے تیار ہے جن کے پاس توانائی کے اپنے وسائل نہیں ہیں، تاہم انہوں نے حکومتوں کو مشورہ دیا کہ وہ ایسے بھاری انرجی سبسڈیز سے گریز کریں جو ان کے مستقبل کے لیے بوجھ بن جائیں۔

 ورلڈ بینک کے اعداد و شمار کے مطابق اگر جنگ جلد ختم ہو جاتی ہے تب بھی عالمی ترقی کی شرح میں اعشاریہ تین سے اعشاریہ چار فیصد تک کمی آئے گی، لیکن جنگ طویل ہونے کی صورت میں یہ کمی ایک فیصد تک جا سکتی ہے،اسی طرح ترقی پذیر ممالک میں مہنگائی کی شرح جو پہلے تین فیصد رہنے کی توقع تھی اب بڑھ کر تقریباً پانچ فیصد اور انتہائی صورتحال میں پونے سات فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔

ورلڈ بینک اس وقت کئی ممالک کے ساتھ مل کر بجلی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے جوہری توانائی اور پن بجلی کے منصوبوں پر بھی کام کر رہا ہے تاکہ روایتی ایندھن پر انحصار کم کیا جا سکے۔

مزید خبریں

Back to top button