تھرکول بلاک ٹو کی ریکارڈ توڑ ناانصافیاں، مزدوروں کی ہڑتال جاری، کرپٹ انتظامیہ خاموش تماشائی

تھرپارکر (رپورٹ: میندھرو کاجھروی / جانو ڈاٹ پی کے) تھرکول بلاک ٹو کی انتظامیہ پر ریکارڈ توڑ ناانصافیوں اور لیبر حقوق پامال کرنے کے سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ برطرف کیے گئے ملازمین کو بحال نہیں کیا گیا جبکہ گزشتہ احتجاجوں کے دوران کیے گئے وعدوں پر بھی عملدرآمد نہیں کیا گیا۔ مزدوروں کے جاری احتجاج کو 60 گھنٹے گزر چکے ہیں اور اطلاعات کے مطابق احتجاج کرنے والے مزدوروں کو خوراک اور پانی کی فراہمی بھی بند کر دی گئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق تھرکول بلاک ٹو کی انتظامیہ پر کرپشن اور مزدوروں کے حقوق کی مسلسل خلاف ورزی کے الزامات ہیں، اور کہا جا رہا ہے کہ انہوں نے ماضی کے تمام ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔
چند ماہ قبل ڈمپر ڈرائیورز اور دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے مزدوروں نے کام چھوڑ ہڑتال کی تھی، جس کے بعد انتظامیہ نے مذاکرات کے دوران وعدہ کیا تھا کہ جلد ہی تمام مسائل حل کیے جائیں گے۔ تاہم کئی ماہ گزرنے کے باوجود مسائل حل نہ ہو سکے، جس پر ملازمین اور مزدوروں نے دوبارہ کام چھوڑ ہڑتال شروع کر دی، جسے اب 60 گھنٹے سے زائد کا وقت گزر چکا ہے۔ اس دوران نہ تو ان کے مسائل حل کیے گئے اور نہ ہی کوئی ذمہ دار افسر ان کے پاس پہنچا۔
مزید برآں، اندرونی ذرائع کے مطابق احتجاج کرنے والے مزدوروں کی خوراک اور پانی بھی بند کر دی گئی ہے۔
مزدوروں کے شدید احتجاج کے باوجود تھرکول انتظامیہ، مقامی ضلعی انتظامیہ اور منتخب نمائندوں نے کوئی مؤثر کردار ادا نہیں کیا۔ اس صورتحال پر مزدوروں نے شدید حیرت اور تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنے جائز حقوق کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں، مگر انہیں بھوک اور ذہنی اذیت کا سامنا ہے اور کوئی بھی ان کی آواز سننے کو تیار نہیں۔
مزدوروں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے جائز مطالبات فوری طور پر تسلیم کیے جائیں اور موجودہ بے چینی کا خاتمہ کیا جائے۔



