ایران،اسرائیل/ امریکہ جنگ: اب تک کا فاتح "روس”

تحریر:نہال معظم
موجودہ عالمی منظرنامے میں ایران اور امریکہ کی جنگ میں ’فاتح‘ کے طور پر جو نام ابھر رہا ہے، وہ روس ہے۔ یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا سمیت عالمی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ جاری جنگ نے یوکرین کی جنگ کو پسِ پشت ڈال دیا ہے۔ مغربی دنیا، بالخصوص امریکہ اور یورپی ممالک، پچھلے دو سالوں سے اپنی تمام تر توانائی اور فوجی وسائل یوکرین کی مدد پر صرف کر رہے تھے، لیکن مشرقِ وسطیٰ کے بحران نے واشنگٹن کو مجبور کر دیا ہے کہ وہ اپنی توجہ کیف سے ہٹا کر تل ابیب اور تہران پر مرکوز کرے، جو روس کے لیے ایک بڑی سیاسی "سانس” ثابت ہوئی ہے۔
عسکری اعتبار سے، یوکرین کو ملنے والے ہتھیار، خاص طور پر پیٹریاٹ (Patriot) ایئر ڈیفنس سسٹم اور آرٹلری گولہ بارود، اب مشرقِ وسطیٰ کی ضرورت بن چکے ہیں۔ امریکہ کے لیے ایک ہی وقت میں دو بڑے محاذوں پر جدید ترین ہتھیار فراہم کرنا مشکل ہو رہا ہے، جس کا براہِ راست فائدہ روسی فوج کو یوکرین کے فرنٹ لائن پر مل رہا ہے۔ معاشی محاذ پر بھی روس کے لیے حالات سازگار ہیں؛ آبنائے ہرمز کی بندش کے خدشات اور تیل کی قیمتوں میں اضافے نے روسی جنگی معیشت کے لیے ایک بڑی مالی آکسیجن کا کام کیا ہے۔
سفارتی محاذ پر روس خود کو گلوبل ساؤتھ (Global South) میں ایک مستحکم اور غیر جانبدار قوت کے طور پر پیش کر رہا ہے، جبکہ امریکہ کو جنگ کا ذمہ دار ٹھہرا کر افریقہ، ایشیا اور لاطینی امریکہ میں نئے اتحادی بنا رہا ہے۔ اس تنازع نے تہران اور ماسکو کو ایک دوسرے کے مزید قریب کر دیا ہے۔ ایران کو اب روسی دفاعی ٹیکنالوجی، جیسے S-400 اور Su-35 طیاروں کی پہلے سے زیادہ ضرورت ہے، اور بدلے میں روس کو ایرانی ڈرون اور میزائل ٹیکنالوجی کا تسلسل مل رہا ہے۔ عالمی سیاسی ماہرین کے مطابق، ولادیمیر پوتن کے لیے مشرقِ وسطیٰ کی یہ افراتفری ایک "تحفہ” ہے۔ جتنی دیر تک امریکہ ایران کے ساتھ الجھا رہے گا، روس کو یوکرین میں اپنے اہداف حاصل کرنے اور عالمی نظام میں اپنی پوزیشن مستحکم کرنے کا اتنا ہی زیادہ موقع ملے گا۔
اس ’روسی فتح‘ کے تناظر میں اگر پاکستان کا جائزہ لیا جائے تو یہ صورتحال دو رخی تزویراتی اثرات رکھتی ہے۔ ایک طرف روس کے ساتھ بڑھتے تعلقات اور شنگھائی تعاون تنظیم کے ذریعے سستے توانائی کے وسائل اور ٹیکنالوجی کا حصول پاکستان کے لیے خارجہ پالیسی کے نئے دروازے کھول سکتا ہے، جس سے اس کے روایتی دشمنوں کی ’امریکہ پرستی‘ کی حکمتِ عملی کو ایک بڑا دھچکا لگے گا۔ مغربی بلاک کے غیر مستحکم ہونے سے پاکستان کو اپنی تزویراتی خودمختاری کو یقینی بنانے کا نادر موقع مل سکتا ہے۔ تاہم، اس میں پوشیدہ خطرہ یہ ہے کہ روس کی طرف حد سے زیادہ جھکاؤ مغرب کی معاشی پابندیوں یا آئی ایم ایف جیسے مالیاتی اداروں کے دباؤ کو دعوت دے سکتا ہے۔ لہٰذا، ایک فاتح روس کے ساتھ تعلقات پاکستان کے لیے ایک سفارتی ڈھال تو بن سکتے ہیں، مگر ان کا حتمی فائدہ مکمل طور پر پاکستان کی اپنی داخلی سیاسی استحکام اور متوازن خارجہ پالیسی کی صلاحیت پر منحصر ہوگا۔ یہ وقت محتاط سفارتکاری کا ہے، کیونکہ طاقت کا مرکز بدل رہا ہے اور اس تبدیلی میں توازن ہی واحد راستہ ہے۔



