جنوبی یورپ آگ کی لپیٹ میں، شدید گرمی نے جنگلاتی آگ کو بے قابو کر دیا

فرانس (ویب ڈیسک) جنوبی یورپ میں شدید گرمی کے باعث جنگلاتی آگ کی نئی لہر نے پرتگال، اسپین، فرانس، یونان اور دیگر یورپی ممالک کے وسیع علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے، جس کے نتیجے میں ہزاروں افراد کو اپنے گھروں سے انخلا کرنا پڑا، جبکہ متعدد علاقوں میں ہنگامی پابندیاں نافذ کر دی گئی ہیں۔
حکام کے مطابق مختلف ممالک میں سینکڑوں فائر فائٹرز آگ پر قابو پانے کی کوششوں میں مصروف ہیں، تاہم اب تک 20 ہزار ہیکٹر سے زائد جنگلات اور اراضی جل کر خاکستر ہو چکی ہے، جو نیویارک کے علاقے مین ہیٹن سے تقریباً تین گنا زیادہ رقبے کے برابر ہے۔
فرانس میں جنگلاتی آگ کے بڑھتے خطرے کے پیش نظر معروف سائیکل ریس ٹور ڈی فرانس کے ایک مرحلے کے دوران شائقین کے داخلے پر بھی پابندی عائد کر دی گئی، جبکہ متعدد علاقوں میں حفاظتی اقدامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں۔
یورپ میں ایک بار پھر شدید گرمی کی لہر برقرار ہے اور اسپین میں درجہ حرارت 43 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مئی اور جون کی شدید گرمی کے اثرات ابھی ختم نہیں ہوئے، جنہیں ہزاروں اموات سے بھی جوڑا جا چکا ہے، اور یہی موسمی حالات جنگلاتی آگ کے خطرات میں مسلسل اضافہ کر رہے ہیں۔
فرانس کے جنوب مغربی شہر پرپینیان کے قریب پیرینیز کے پہاڑی علاقے میں لگنے والی آگ نے 4 ہزار 600 ہیکٹر سے زائد رقبہ اپنی لپیٹ میں لے لیا، جس کے بعد حکام نے تقریباً 10 ہزار 500 افراد کو فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت جاری کی۔
متاثرہ علاقے کے ایک رہائشی نے بتایا کہ آگ گھروں سے صرف 300 میٹر کے فاصلے تک پہنچ گئی تھی اور شعلوں کی تیز رفتار پیش قدمی نے لوگوں میں شدید خوف و ہراس پھیلا دیا۔
ماہرین اور سائنس دانوں کے مطابق فوسل فیول کے استعمال سے پیدا ہونے والی موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث دنیا بھر میں ہیٹ ویوز، جنگلاتی آگ اور دیگر شدید موسمی مظاہر کی شدت اور تکرار میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔



