گندم اور توریا کی فصل مارکیٹ میں آتے ہی قیمت خرید میں کمی کردی گئی

بدین (رپورٹ مرتضیٰ میمن/جانو ڈاٹ پی کی)گندم اور توریا کی فصل مارکیٹ میں آتے ہی قیمت خرید میں کمی کردی گئی۔

گندم اور توریا کی پیداوار میں سرفہرست زیریں سندھ لاڑ کے اضلاع بدین اور ٹنڈو محمد خان میں گندم اور توریا کی نئی فصل کے مارکیٹ میں آنے کے ساتھ ہی دونوں اجناس کے نرخوں میں اچانک اور نمایاں کمی کا رجحان سامنے آیا ھے جس سے آبادگار طبقہ شدید ذہنی اور مالی پریشانی کا شکار ہو گیا ھے 12 مارچ تک گندم 4200 روپے فی 40 کلو گرام کے حساب سے فروخت ہو رہی تھی تاہم چند ہی دنوں میں اس کی قیمت کم ھو کر 3600 روپے اور پھر صرف 24 گھنٹوں کے اندر مزید گر کر 3000 روپے فی 40 کلو گرام تک پہنچ گئی ھے. اسی طرح 7000 روپے فی من کے حساب سے فروخت ہونے والا توریا بھی کم ہو کر 6200 روپے فی من تک آ گیا جس سے کاشتکاروں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑ رہا ھے آبادگاروں نے اس اچانک قیمت میں کمی کا ذمہ دار آڑھتیوں اور فلور مل مالکان اور گندم کی خریداری پر اپنی اجارہ داری قائم رکھنے والے بڑے عناصروں کو قرار دیتے ہوئے حکومت اور دونوں اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز سے کاروائی کرنے کا مطالبہ کیا ھے آ باد گاروں نے الزام عائد کیا ھے کہ بظاہر قیمت 40 کلو کے حساب سے ادا کی جاتی ھے مگر آبادگاروں سے فی من ایک کلو اضافی اناج وصول کیا جاتا ھے آبادگاروں کا کہنا ہے کہ “موسچرائز” (نمی) کا جواز بنا کر فی من 3 سے 4 کلو مزید کٹوتی کی جاتی ھے، انہوں نے الزام لگایا کہ آڑھتی مل مالکان مزدوری کے نام پر 20 سے 25 روپے فی من بھی آبادگاروں سے ہی وصول کیے جا رہے ہیں، جو سراسر ناانصافی ھے آبادگار طبقے نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ گندم کی پیداوار پر آنے والے اخراجات کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری طور پر مناسب اور منصفانہ قیمت مقرر کی جائے اور نئی فصل کم نرخ پر خریدے جانے کی ادائیگی کرائی جائے. تاکہ آبادگاروں اور ہاریوں کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے

مزید خبریں

Back to top button