بہاولنگر میں گندم کی شاندار فصل،موسمیاتی تبدیلی کے باعث کٹائی ایک ماہ پہلے متوقع

بہاولنگر(جانوڈاٹ پی کے)ضلع بہاولنگر میں اس سال گندم کی فصل تیاری کے آخری مراحل میں داخل ہو چکی ہے اور کسانوں کے مطابق اس بار فصل نہایت شاندار رہی ہے۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ اس مرتبہ گندم کی فصل زیادہ تر بیماریوں کے حملوں سے محفوظ رہی، جس کے باعث کسانوں کو زرعی ادویات پر اضافی اخراجات نہیں کرنا پڑے۔ زرعی ماہرین اور کاشتکاروں کو توقع ہے کہ اس سال فی ایکڑ پیداوار بھی گزشتہ برسوں کی نسبت بہتر رہے گی۔
موسمیاتی تبدیلی کے اثرات اس سال واضح طور پر دیکھنے میں آئے ہیں۔ سردی کا موسم معمول کے مقابلے میں کافی مختصر رہا جبکہ گرمی اپنے مقررہ وقت سے تقریباً ایک ماہ پہلے شروع ہو گئی۔ اسی وجہ سے گندم کی فصل بھی اپنے روایتی وقت سے تقریباً ایک ماہ پہلے پکنے لگی ہے اور کھیتوں میں فصل کے خوشے پیلے ہونا شروع ہو گئے ہیں۔
کاشتکاروں کا کہنا ہے کہ چند سال پہلے تک گندم کی کٹائی عموماً اپریل کے آخر یا مئی کے وسط میں ہوتی تھی، جبکہ اس سے بھی پہلے کے برسوں میں فصل مئی کے آخر یا جون کے آغاز میں تیار ہوتی تھی۔ تاہم اب موسمی حالات کی تبدیلی کے باعث فصل کی تیاری کا وقت بتدریج پہلے آتا جا رہا ہے۔
گندم جلد تیار ہونے کی وجہ سے اس سال کسانوں نے چاول کی دو فصلیں لینے کی منصوبہ بندی بھی کر لی ہے۔ کئی علاقوں میں چاول کی بنیریاں پہلے ہی کاشت کی جا چکی ہیں۔ کاشتکاروں کے مطابق اگر موسم سازگار رہا تو اس سال تین فصلیں کاشت کرنے کا موقع مل سکتا ہے جس سے ان کی آمدنی میں نمایاں اضافہ ہونے کی توقع ہے۔
گزشتہ سال بھی موسمیاتی تبدیلی کے باعث معمول سے زیادہ بارشیں ہوئیں جس سے کسانوں کو آبپاشی کے لیے ڈیزل کے استعمال میں نمایاں کمی کا فائدہ ملا۔ اس کے نتیجے میں چاول کی فصل کی پیداوار بھی کافی بہتر رہی تھی۔ محکمہ موسمیات کے مطابق اس سال بھی بارشیں گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً دس فیصد زیادہ ہونے کا امکان ہے، جس سے کسانوں کے آبپاشی کے اخراجات میں مزید کمی آ سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق اگرچہ موسمیاتی تبدیلی عالمی سطح پر ایک بڑا خطرہ بن چکی ہے، تاہم موجودہ حالات میں اس کے بعض پہلو کسانوں کے لیے وقتی طور پر فائدہ مند بھی ثابت ہو سکتے ہیں، خاص طور پر ایسے علاقوں میں جہاں اضافی بارشیں اور فصلوں کی جلد تیاری زرعی پیداوار میں اضافہ کر سکتی ہے۔



