علی پور چٹھہ: واپڈا ملازمین کا محکمہ کی ممکنہ نجکاری کیخلاف شدید احتجاج اورنعرے بازی

وزیرآباد (جانوڈاٹ پی کے) واپڈا سب ڈویژن گیپکو علی پورچٹھہ میں محکمہ کی ممکنہ نجکاری کے خلاف ملازمین نے کام چھوڑ ہڑتال کرتے ہوئے شدید احتجاج کیا، احتجاج کے دوران نجکاری کے خلاف فلک شگاف نعرے بازی کی گئی جبکہ دفاتر کو تالے لگا دیے گئے، تفصیلات کے مطابق واپڈا سب ڈویژن علی پور چٹھہ کے ملازمین نے حکومت پاکستان کی جانب سے ادارے کی نجکاری کے فیصلے کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ نجکاری نہ صرف ایک منافع بخش قومی ادارے کی تباہی ہے بلکہ ملکی معیشت کو کھوکھلا کرنے کے مترادف ہے، وائس چیئرمین پاکستان واپڈا ہائیڈرو الیکٹرک ورکر یونین علی پور چٹھہ ڈویژن سید محمد تنویر، شکیل احمد چٹھہ اور عزیز اقبال نے مظاہرین سے خطاب کے دوران کہا کہ واپڈا پاکستان کی سالمیت اور استحکام کی علامت ہے اور اس کی نجکاری عوام دشمن اقدام ہے، احتجاجی مظاہرے سے خطاب اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ ماضی میں جن اداروں کو نجی تحویل میں دیا گیا ان کا انجام سب کے سامنے ہے، پی ٹی سی ایل، ہسپتال، تعلیمی ادارے اور پی آئی اے جیسے قومی اداروں کی نجکاری سے عوام کو شدید نقصان پہنچا ہے جبکہ صرف ٹھیکیدار اور سرمایہ دار فائدہ اٹھاتے رہے، انہوں نے کہا کہ واپڈا ملازمین کی نجکاری دراصل ان کا معاشی قتل اور پورے نظام کی تباہی کا باعث بنے گی، مقررین نے مزید کہا کہ پاک فوج کے بعد سب سے زیادہ شہادتیں واپڈا ملازمین نے دی ہیں، لہٰذا ان قربانیوں کی بے حرمتی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی، انہوں نے اپنی یونین کے قائد خورشید کے اعلان کا حوالہ دیتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے فیصلہ واپس نہ لیا تو احتجاج کا دائرہ گوجرانوالہ ریجن سے نکل کر پورے ملک تک پھیلایا جائے گا، واپڈا ملازمین کا کہنا تھا کہ نجکاری کا براہِ راست نقصان صارفین کو ہو رہا ہے، جہاں کنکشن کے ڈیمانڈ نوٹس 10 ہزار سے بڑھا کر 30 ہزار روپے کر دیے گئے ہیں، جو غریب عوام پر کھلا ظلم ہے، ان کا کہنا تھا کہ اداروں میں اصلاحات کی جائیں تو وہ ایک مثبت عمل ہے، مگر منافع بخش اداروں کو نیلام کرنا کسی صورت دانشمندی نہیں، احتجاج کے پہلے مرحلے میں میٹر ریڈنگ، بلوں کی تقسیم اور ریکوری کا عمل مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے، جبکہ اگلے مرحلے میں شکایات کے ازالے کا نظام بھی مفلوج کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ مظاہرین نے مزید کہا کہ اگر مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو بجلی کی ترسیل روکنے جیسے سخت اقدامات سے بھی گریز نہیں کیا جائے گا، واپڈا ملازمین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ہوش کے ناخن لے، نجکاری کا فیصلہ فوری واپس لے اور قومی ادارے کو عوامی مفاد میں چلانے کے لیے سنجیدہ اور عملی اصلاحات کرے، بصورت دیگر احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کر دیا جائے گا۔



