آسٹریلیا نے اسلام مخالف اسرائیلی انفلوئنسر کا ویزہ منسوخ کردیا

 سڈنی(جانوڈاٹ پی کے)آسٹریلوی حکومت نے اسرائیل کے معروف سوشل میڈیا انفلوئنسر سیمی یہود کا ویزہ منسوخ کر دیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق آسٹریلیا کے وزیر برائے داخلہ ٹونی برک نے بتایا کہ وہ نفرت پھیلانے والوں کو ملک میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دیں گے۔

انھوں نے مزید کہا کہ جو لوگ نفرت، تعصب اور سماجی تقسیم پھیلانے کے لیے آنا چاہتے ہیں ان کا ویزہ منسوخ کیا جائے گا۔

اسرائیلی نژاد سیمی یہود نے مائیکرو بلاگنگ پلیٹ فارم X (سابق ٹویٹر) پر اپنی کئی نفرت آمیز پوسٹوں میں اسلام کو گھناؤنا نظریہ قرار دیا تھا۔

اسرائیلی انفلوئنسر یہ جھوٹا پروپیگنڈا بھی کیا تھا کہ اسلام غیر مسلموں، مرتدین، خواتین، بچوں اور ہم جنس پرستوں کے حقوق کو تسلیم نہیں کرتا۔

ان کی ان پوسٹوں پر اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں نفرت آمیز خیالات کا اظہار کیا اور کئی افراد نے دھمکی آمیز لہجہ بھی اپنا کر مسلمانوں  کے خلاف جذبات اکسائے۔

اسرائیلی انفلوئنسر نے ویزا منسوخی کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ان کا ویزہ پرواز روانہ ہونے سے تقریباً تین گھنٹے قبل منسوخ کیا گیا۔

وہ اسرائیل سے ابوظہبی پہنچے لیکن وہاں سے ان کی میلبورن جانے والی اگلی پرواز پر جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔

جس پر سیمی یہود نے سوشل میڈیا پر آسٹریلوی حکومت کے فیصلے کو استبداد، سنسرشپ اور کنٹرول قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس فیصلے کے خلاف قانونی کارروائی کریں گے۔

اسرائیلی انفلوئنسر کی حمایت میں آسٹریلیا کی یہود ایسوسی ایشن بھی میدان میں آگئی اور حکومت پر الزام لگایا ہے کہ یہودی مہمانوں کو غیر منصفانہ طور پر نشانہ بنایا جا رہا ہے اس فیصلے سے مذہبی آزادی پر خدشات پیدا ہو رہے ہیں۔

مزید خبریں

Back to top button