امریکا میں تاریخی برفانی طوفان، ڈھائی لاکھ کے قریب صارفین بجلی سے محروم، ہزاروں پروازیں منسوخ

واشنگٹن (جانوڈاٹ پی کے) امریکا میں شدید نوعیت کے برفانی طوفان نے نظامِ زندگی درہم برہم کر دیا، جہاں 2 لاکھ 30 ہزار سے زائد صارفین بجلی سے محروم ہو گئے جبکہ ہزاروں فضائی پروازیں منسوخ کر دی گئیں۔
حکام کے مطابق طوفان کی شدت اتوار سے مزید بڑھنے کا خدشہ ہے، جس کے باعث امریکا کی مشرقی ریاستوں میں روزمرہ زندگی مفلوج ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ہفتے کے روز طوفان سے قبل ہی 4 ہزار سے زائد پروازیں منسوخ کی گئیں، جبکہ اتوار کے لیے 9 ہزار سے زائد پروازوں کی منسوخی کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ شدید برف باری، ژالہ باری، منجمد بارش اور یخ بستہ ہوائیں امریکا کے مشرقی دو تہائی حصے کو اپنی لپیٹ میں لے چکی ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صورتحال کو “تاریخی” قرار دیتے ہوئے جنوبی کیرولائنا، ورجینیا، ٹینیسی، جارجیا، نارتھ کیرولائنا سمیت 11 ریاستوں میں وفاقی ہنگامی حالت نافذ کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ صدر ٹرمپ نے عوام سے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے اور شدید سرد موسم سے محفوظ رہنے کی اپیل کی ہے۔
محکمۂ داخلی سلامتی کے مطابق 17 ریاستوں اور واشنگٹن ڈی سی میں موسمی ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔ بجلی کی بندش سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والی ریاستوں میں لوزیانا، مسیسیپی، ٹیکساس، ٹینیسی اور نیو میکسیکو شامل ہیں۔
محکمۂ توانائی نے ٹیکساس میں ممکنہ بجلی بحران سے نمٹنے کے لیے ہنگامی اختیارات جاری کر دیے ہیں، جبکہ دیگر متاثرہ علاقوں میں بھی بجلی کے نظام کو مستحکم رکھنے کے لیے خصوصی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
قومی موسمیاتی ادارے نے خبردار کیا ہے کہ جنوب مشرقی امریکا میں برف باری اور برفانی بارش کے باعث شدید اور بعض مقامات پر تباہ کن اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ حکام نے شہریوں کو خوراک، ایندھن اور دیگر ضروری اشیاء ذخیرہ کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔



