امریکی سینیٹ میں روبیو سے سخت سوالات،سینیٹرز کی ایران جنگ پر شدید تنقید، ٹرمپ خارجہ پالیسی کو “تباہ کن” قرار دے دیا گیا

واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک)امریکی سینیٹ میں وزیر خارجہ مارکو روبیو کو ایران جنگ اور مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑا، جہاں قانون سازوں نے ٹرمپ انتظامیہ کی خارجہ پالیسی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

سینیٹ میں ہونے والی سماعت کے دوران ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن نے کہا کہ سچ یہ ہے کہ ٹرمپ کی خارجہ پالیسی مکمل طور پر تباہی کا شکار ہو چکی ہے، اور ایران کے ساتھ جاری کشیدگی ایک غیر دانشمندانہ اور خطرناک اقدام ہے۔

اسی طرح ڈیموکریٹ سینیٹر کورے بکر نے بھی جنگی صورتحال پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی فریق موجودہ صورتحال سے فائدہ اٹھانے کے راستے تلاش کر رہا ہے اور آبنائے ہرمز کی بندش کو بطور دباؤ استعمال کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ خطے میں کشیدگی اور آبنائے ہرمز سے متعلق خدشات امریکی پالیسیوں کے براہِ راست نتائج ہیں، اور یہ جنگ ایسی ہے جو شروع ہی نہیں ہونی چاہیے تھی۔

سینیٹرز نے مجموعی طور پر امریکی انتظامیہ پر الزام عائد کیا کہ اس کی پالیسیوں نے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی بڑھائی ہے بلکہ عالمی معیشت اور توانائی کی منڈیوں کو بھی غیر مستحکم کر دیا ہے۔

ماہرین کے مطابق سینیٹ میں ہونے والی یہ بحث امریکی داخلی سیاسی تقسیم اور ایران پالیسی پر بڑھتے ہوئے اختلافات کو واضح کرتی ہے۔

مزید خبریں

Back to top button