وینزویلا پر امریکی حملہ کیسے ہوا؟ملٹری چیف نے خفیہ آپریشن کی مکمل کہانی سنا دی

واشنگٹن(جانوڈاٹ پی کے)امریکا کے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ڈین کین نے وینزویلا میں ہونے والے آپریشن کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور وزیر جنگ کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے امریکی ملٹری چیف نے بتایاکہ صدرٹرمپ کےحکم پر وینزویلا میں آپریشن کیاگیا اورنکولس مادورو اوراہلیہ کوانصاف کےکٹہرےمیں لانےکیلئے آپریشن کیا گیا۔
ان کا کہنا تھاکہ کئی ماہ کی تیاری اور دہائیوں کے تجربےکی بنیاد پر کارروائی کی گئی، امریکا کی زمینی، فضائی اور بحری فوج نے انٹیلی جنس ایجنسی سےمل کرتیاری کی، سی آئی اے، این ایس اےاور این جی اے سمیت انٹیلی جنس ایجنسیز کےتعاون کےبغیریہ مشن پایہ تکمیل تک نہیں پہنچ سکتا تھا۔
انہوں نے بتایاکہ آپریشن میں 150 سے زائد طیاروں نے حصہ لیا، امریکا کی جوائنٹ فورسز کیلئے ناکامی آپشن نہیں تھا، فوجی نقصان کم سےکم کرنے کیلئے مناسب وقت کا انتظار کیاگیا اور صدرٹرمپ نے گزشتہ رات اس مشن کو انجام دینےکا حکم دیا۔
امریکی ملٹری چیف کے مطابق ہم نے 20 مختلف بری اور بحری اڈوں سے طیارےروانہ کیے، 150 سے زائد بمبار فائٹرز فضا میں تھے جن میں ایف 22، ایف 35، ایف18، ای اے 18، ای 2، بی ون بمباراوردیگرسپورٹ طیاروں نے شامل تھے۔
ان کا کہنا تھاکہ جیسےہی فورس کاراکاس پہنچی ائیرفورس نے وینزویلا کے ائیرڈیفنس کوناکارہ بناناشروع کیا، اس طرح ہیلی کاپٹرز کو مطلوبہ ہدف پر پہنچنےکا راستہ بنایاگیا، مقامی وقت کے مطابق رات 2 بجےہم مادورو کےکمپاؤنڈ پر پہنچے اورفورسز داخل ہوئیں۔
انہوں نے مزید بتایاکہ ٹارگٹ ایریا پہنچنے پر ہمارے ہیلی کاپٹر آگ کی زد میں آئے، اس دوران ہمارا ایک ہیلی کاپٹر نشانہ بنا لیکن وہ اڑنے کے قابل تھا، آپریشن کےبعد ہمارے تمام طیارے واپس پہنچ گئے۔
امریکی ملٹری چیف نے بتایاکہ امریکی وزارت انصاف نے مادورو اور ان کی اہلیہ کو حراست میں لیا اور وینزویلا سے واپسی پر متعدد سیلف ڈیفنس کے کارروائیاں بھی کی گئیں۔
خیال رہے کہ امریکا نے وینزویلا پر حملہ کردیا اور وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو گرفتار کرلیا۔
کارروائی امریکی جنگی طیاروں نے کی اور ڈیلٹا فورس نے دارالحکومت کاراکاس میں اہداف کو نشانہ بنایا۔ وینزویلا نے حملوں کو جارحیت قرار دے دیا اور کہا کہ حملے کا مقصد وینزویلا کے تیل اور معدنیات پر قبضہ کرنا ہے۔



